تحصیلدار اور نائب تحصیلدار نے نہ صرف زرعی زمین میں ہونے والی تبدیلی کا اندراج کرنے سے انکار کیا بلکہ بدسلوکی بھی کی تھی
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 11:41 PM IST | Chandrapur
تحصیلدار اور نائب تحصیلدار نے نہ صرف زرعی زمین میں ہونے والی تبدیلی کا اندراج کرنے سے انکار کیا بلکہ بدسلوکی بھی کی تھی
حال ہی میں چندر پور ضلع کے بھدراوتی تعلقے میں واقع مورا گائوں میں پرمیشور میشرام نامی کسان نے خود کشی کر لی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے بھدراوتی کے تحصیلدار راجیش بھنڈارکر اور نائب تحصیلدار سدھیر کھانڈے کے خلاف موت کا سبب بننے کا معاملہ درج کیا ہے ۔ ساتھ ہی ان دونں کے خلاف درج فہرست ذات و قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت بھی معاملہ درج کیا گیا ہے۔ میشرام کی بیوی وندنا پرمیشور میشرم کی جانب سے تحریری شکایت کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی سے محکمہ محصولات میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
اطلاع کے مطابق ۷؍ جولائی کو وندنا پرمیشور میشرم کی طرف سے درج کروائی گئی شکایت کے مطابق موضع کروڈا میں واقع سروے نمبر ۸۶؍ اور ۸۷؍ میں زرعی اراضی میں تبدیلی کی گئی تھی جس کا اندراج کروانا تھا لیکن تحصیلدار اور نائب تحصیلدار نے یہ کہہ کر اندراج سے انکار کر دیا تھا کہ اس پر اسٹے آرڈر آیا ہوا ہے جبکہ ایسا کوئی اسٹے آرڈر نہیں آیا تھا۔ وندنا کے مطابق جب پرمیشور میشرام ۲۶؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو اس تعلق سے استفسار کیلئے تحصیل دفتر گیا تو دونوں افسران نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے دفتر سے باہر دھکیل دیا۔ اس توہین آمیز رویے سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے تحصیل آفس میں ہی زہریلی دوا کھا لی۔ اس کے بعد اسے علاج کیلئے اسپتال میں داخل کروایا گیا۔ تاہم، ۶؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ تحصیلدار بھنڈارکر اور نائب تحصیلدار کھنڈرے اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔
اس کے مطابق، بھدراوتی پولیس نے تعزیرات ہند ( آئی پی سی) کی دفعہ ۱۰۸؍، ۳؍(۵) اور درج فہرست ذاتوں اور قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کی دفعہ ۳؍(۹) ( آر) ۳؍ (۹) ایس اور ۳؍ (۲) ( وی اے) کے تحت جرم نمبر ۲۰۲۶؍ ۲۰۲۶؍ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ بھدراوتی تھانیدار یوگیشور پاردھی نے بتایا کہ ملزمین کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس معاملے میں تحصیلدار راجیش بھنڈارکر کو معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں، عدالت نے معطلی کے حکم کو منسوخ کر دیا اور انہیں دوبارہ بھدراوتی میں مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم اس معاملے کی سنگینی اس طرح بڑھ گئی ہے کہ موت کا سبب بننے کا مقدمہ ان کے دوبارہ تعیناتی کے چند دن بعد ہی ان کے خلاف ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ریونیو ڈپارٹمنٹ سمیت ضلع بھر میں کھلبلی کا باعث بناہوا ہے۔
یاد رہے کہ ودربھ میں کسان خستہ حال ہیں اور ان علاقوں میں آئے دن کسانوں کی خود کشی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ نیز حکام کا ان کسانوں کے ساتھ رویہ نامناسب ہونے کی شکایتیں بھی عام طور پر ملتی رہتی ہیں ۔ مذکورہ معاملہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔