ندی میں ڈوبنے سے ایک بچے کی موت، ۱۷؍سالہ نوجوان تاحال لاپتہ، نالے میں بہنے والے ۱۳؍ سالہ بچے کی تلاش جاری۔
ابوذر انصاری۔ عاطف شیخ۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ چند روز سے ہونے والی موسلادھار بارش نے جہاں بھیونڈی میں معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، وہیں محض ۴؍ دنوں کے دوران پیش آنے والے ۳؍ الگ الگ المناک حادثات نے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان حادثات میں ایک ۱۰؍ سالہ بچے کی ڈوبنے سے موت ہو گئی جبکہ ایک ۱۷؍ سالہ نوجوان اور ایک ۱۳؍سالہ لڑکا تاحال لاپتہ ہیں۔ ان افسوسناک واقعات نے بارش کے موسم میں ندی نالوں کے اطراف حفاظتی انتظامات اور شہری انتظامیہ کی تیاریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
سنیچر کو مسلسل بارش کے باعث بھیونڈی سے گزرنے والی کامواری ندی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی۔ ندی کے اطراف واقع وسرجن گھاٹ، مہاڈا کالونی، سنگم پاڑہ اور عیدگاہ سمیت متعدد نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہو گیا تھا۔ اسی دوران مہاڈا کالونی میں رہنے والا۱۰؍سالہ عاطف شیخ گھر کا کچرا پھینکنے کیلئے ندی کنارے پہنچا، جہاں اچانک اس کا پیر پھسل گیا اور وہ تیز بہاؤ میں بہہ کر ڈوب گیا۔اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے ۶؍ بجے عاطف کی لاش مہاڈا کالونی کے قریب سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اتوار کو پھر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب گلزار نگر کا رہائشی ۱۷؍سالہ محمد غوث نفیس انصاری اپنے چند دوستوں کے ساتھ چاوندرہ گاؤں کے نزدیک کامواری ندی پر کیکڑا پکڑنے گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے ساتھی ندی کنارے کیکڑے پکڑنے میں مصروف تھے، جبکہ محمد غوث تیرنے کی غرض سے پانی میں اترا۔ ندی کی گہرائی اور تیز بہاؤ کا اندازہ نہ ہونے کے باعث وہ پانی میں بہہ گیا۔اطلاع ملتے ہی بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تلاش و بچاؤ مہم شروع کر دی۔ منگل کو بھی نوجوان کی تلاش جاری ہے، تاہم خبر لکھے جانے تک محمد غوث کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔
ادھر پیر کے روز دیوجی نگرنالاپار علاقے میں ایک اور دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ ۱۳؍ سالہ ابوذر انصاری بارش کے پانی سے لبریز ایک کھلے نالے میں بہہ گیا۔ مقامی افراد کے مطابق علاقے کے چند بچے نالے میں نہا رہے تھے کہ اچانک ابوذر تیز دھار کی زد میں آ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی میں بہہ گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ، فائر بریگیڈ اور بھوئی واڑہ پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم شام گئے تک جاری رہنے والی کارروائی کے باوجود ابوذر کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو مہم عارضی طور پر روک دی گئی، جسے منگل کی صبح دوبارہ شروع کیا گیا لیکن خبر لکھے جانے تک بچے کا پتہ نہیں چل سکا تھا۔مسلسل بارش کے دوران رونما ہونے والے ان ان واقعات نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس تناظر میں رکنِ اسمبلی رئیس شیخ اور ڈپٹی میئر طارق مومن نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شدید بارش کے دوران اپنے بچوں کو ہرگز گھروں سے باہر نہ جانے دیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں پر خصوصی نظر رکھیں اور انہیں ندی، نالوں اور پانی بھرے مقامات کے قریب جانے سے روکیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔