اسپتال میں گھس کر خاتون ڈاکٹر سمیت ۳ ؍ڈاکٹروں اور نرسوں پر تشدد۔احتجاجاً سرکاری اسپتال میں کام بند آندولن۔
کارپوریٹر رمیش مہاترے(سفید شرٹ) مار پیٹ کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے شاستری نگر اسپتال میں عوامی نمائندوں کی غنڈہ گردی کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ شیو سینا (شندے) کے کارپوریٹر اور ان کے چند حامیوں نے اسپتال میں گھس کر ایک خاتون ڈاکٹر کے علاوہ دیگر ۲؍ ڈاکٹروں اور ۳؍ نرسوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔اس واقعہ کے دوران کارپوریٹر کے کارکنوں پر اسپتال کے سیکوریٹی گارڈ کو بھی یرغمال بناکر رکھنے کا الزام ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک حاملہ خاتون کو زچگی کے لئے شاستری نگر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے اہلِ خانہ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ نومولود کی حالت کے پیشِ نظر اسے پیدائش کے فوراً بعد بچوں کے انتہائی نگہداشت (این آئی سی یو) وارڈ میں منتقل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔تاہم اسپتال میں این آئی سی یو کے تمام بیڈ پہلے سے بھرے ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے مریضہ کے بہتر علاج اور نومولود کی سلامتی کے پیش نظر اہل خانہ کو مشورہ دیا کہ اسے کسی ایسے اسپتال میں منتقل کر دیا جائے جہاں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کی سہولت دستیاب ہو۔
بتایا جا رہا ہے کہ اسی مشورے پر برہم ہوکر شیو سینا (شندے) کے کارپوریٹر رمیش مہاترے اپنے متعدد حامیوں کے ساتھ اسپتال میں داخل ہوئے اور ڈاکٹروں اور نرسوں پر حملہ کر کے انہیں بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے اسپتال کے سیکوریٹی گارڈ کو یرغمال بنا کر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا۔اس افسوسناک واقعہ کے بعد اسپتال کا پورا طبی عملہ شدید صدمے اور غم و غصے میں ہے۔ نرسوں اور دیگر ملازمین نے آبدیدہ ہوتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان پر اس طرح کے حملے کب تک ہوتے رہیں گے اور وہ غیر محفوظ ماحول میں اپنی خدمات کیسے انجام دیں؟
اسپتال کی چیف میڈیکل آفیسر صادیہ پنجاری نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ این آئی سی یو میں بیڈ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مریض کے مفاد میں متبادل اسپتال میں منتقل کرنے کا مشورہ دینا ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملے پر اس نوعیت کے حملے کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہیں اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ واقعہ کے بعد اسپتال میں شدید اشتعال پھیل گیا اور ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ملازمین نے کام بند کرکے احتجاج شروع کر دیا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ڈاکٹروں اور نرسوں پر تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث ایسے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ادھر وشنو نگر پولیس نے کارپوریٹر رمیش مہاترے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سرکاری ملازمین پر حملہ اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنےکے تحت کیس درج کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔