بغل میں رکھا پہاڑ نما کچرے کا ڈھیر بلڈنگ پر گر پڑا اور بلڈنگ نیچے بیٹھ گئی، تقریباً ۱۶؍ ملازمین کے بلڈنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 11:37 PM IST | Pune
بغل میں رکھا پہاڑ نما کچرے کا ڈھیر بلڈنگ پر گر پڑا اور بلڈنگ نیچے بیٹھ گئی، تقریباً ۱۶؍ ملازمین کے بلڈنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ
گزشتہ ۴؍ یا ۵؍ دنوں سے ہو رہی مسلسل بارش کے دوران پونے ضلع سے حادثات کی خاص کر چٹان کھسکنے کی متعدد خبر یں آ چکی ہیں۔ بدھ کے روز یہاں ایک سرکاری عمارت منہدم ہو گئی جس کے نیچے تقریباً ۱۶؍ افراد کے دبے یا پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ اطلاع کے مطابق پونے کے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپویشن کے علاقے میں یہ کچرا پلانٹ کے دفتر کی عمارت تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پمپری چنچوڑ کے موشی علاقےمیں کچرا پلانٹ کے دفتر کے طور پر استعمال ہونے والی اس ۳؍ منزلہ عمارت میں بدھ کے روز تقریباً ۲۰؍ افراد کام کر رہے تھے۔ چونکہ یہاں کچرے سے توانائی پیدا کی جاتی ہے اس لئے عمارت کے پاس ہی پہاڑ نما کچرے کا ڈھیر پڑا ہو تھا۔ زور دار بارش کے سبب غالباً یہ ڈھیر گیلا ہونے کے بعد پھسل گیا اور عمارت کے اوپر گر پڑا۔ اس کی وجہ سے عمارت بھی نیچے بیٹھ گئی۔ خبر ہے کہ ۴؍ افراد کو صحیح سلامت باہر نکال لیا گیا ، لیکن بقیہ ۱۶؍ (خبر لکھے جانے تک) اندر ہی پھنسے ہوئے تھے۔ خبر ملتے ہی نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس( این ڈی آر ایف) اور پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کے فائربریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچا۔ ان کی مدد کیلئے فوج کے جوانوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ پمپری چنچوڑ کے میئر روی لانڈگے، میونسپل کمشنر وجے سوریہ ونشی اور پولیس کمشنر ونئے کمار چوبے بھی جائے حادثے پر پہنچے۔
میونسپل کمشنر وجے سوریہ ونشی نے بتایا کہ ’’ حادثے کا شکار ہونے والی عمارت دراصل کچرا پلانٹ کے دفتر کے طور پرا ستعمال ہوتی ہے۔ اس کے بغل میں کچرے کا ڈھیر رکھا ہوا تھا۔اندازہ ہے کہ ۲؍ روز سے ہو رہی مسلسل بارش نے کچرے کے اس ڈھیر کو ڈھیلا کر دیا اور اس کا ایک بڑا حصہ عمارت کے اوپر گر گیا جس کی وجہ سے عمارت منہدم ہو گئی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ این ڈی آر ایف کی ٹیم بلدنگ کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تمام لوگوںکو صحیح سلامت باہر نکالنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ‘‘ واقعے کی اطلاع ملنے پر بڑی تعداد میں آس پاس کے لوگ بھی جائے حادثے کے پاس جمع ہوگئے لیکن پھنسے ہوئے لوگوں کو صحیح سلامت باہر نکالنا انتظامیہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جن ۴؍ لوگوں کو باہر نکالا گیا ہے انہیں مقامی سرکاری اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے پولیس کمشنر سے رابطہ کرکے معاملے کی تفصیلات حاصل کیں اور ضروری ہدایت دیں۔ ساتھ ہی نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار جو کہ پونے کی نگراں وزیر بھی ہیں نے مقامی انتظامیہ کو فوری طور پر بلڈنگ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یاد رہے کہ پونے میں مسلسل بارش ہو رہی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی علاقے سے حاد ثات کی خبریںآ رہی ہیں۔۶؍ جولائی کو پاٹھن گائوں میں چٹان کھسکنے سے ایک مکان ملبے میں تبدیل ہو گیا تھا جس میں ۳؍ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اسی طرح لوناولہ اور دیگر مقامات پر چٹان کھسکنے کے واقعات کے سبب آمدورفت کے راستہ بند پڑ گئے جنہیں درست کرنے اور ٹریفک بحال کرنے کا کام جاری ہے۔ پلانٹ کے باہر جمع متاثرین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عمارت کے پاس کھڑا کچرے کا پہاڑ اونچا ہوتا جا رہا تھا اور ملازمین نے خود اس کے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا لیکن انتظامیہ نے اس کی خبر نہیں لی۔ فی الحال سب دعا کر رہے ہیں عمارت میں پھنسے لو گوں کو بچالیا جائے۔