اہم شاہراہوں پر گڑھوں کے سبب ٹریفک متاثر جبکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا،دو پہیہ سوار حادثات کی زد میں۔
خستہ حال سڑک کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں کو آمد و رفت میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے-تصویر:آئی این این
چند دنوں کی موسلادھار بارش نے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے حال ہی میں کرائی گئی سڑکوں کی مرمت اور ری سرفیسنگ کے کاموں کی قلعی کھول دی ہے۔ شہر کی متعدد اہم شاہراہوں پر جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے ہیں اور کئی مقامات پر سڑکوں کی ڈامر کی تہہ مکمل طور پر اکھڑ گئی ہے، جس کے سبب ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے جبکہ دو پہیہ گاڑی سواروں کےلئے آمدورفت خطرناک بن گئی ہے۔
زیادہ خراب صورتحال ایس ٹی اسٹینڈ، دھامنکر ناکہ سے کلیان ناکہ ، میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر اور پرانے آگرہ روڈ کو ملانے والی سڑک کی ہے، جہاں بڑے بڑے گڑھوں کے باعث گاڑیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور دن بھر ٹریفک جام کی کیفیت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ناسک روڈ، باغِ فردوس سے ونجارپٹی ناکہ، کلیان روڈ، انجور پھاٹا اور شہر کی دیگر اہم شاہراہیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ گڑھوں میں بارش کا پانی بھرا ہونے کے باعث گڑھے نظر نہیں آتے جس سے موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معمولی و سنگین حادثات کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔
کارپوریٹر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن فراز بہاؤالدین بابا نے الزام عائد کیا ہے کہ اپریل سے جون کے دوران سڑکوں کی مرمت اور ری سرفیسنگ پر تقریباً ۱۰؍کروڑ روپے خرچ کئے گئے لیکن ناقص تعمیراتی معیار کے باعث پہلی ہی بارش میں بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ ان کے مطابق عوام کے ٹیکس کی رقم خرچ ہونے کے باوجود شہریوں کو مضبوط اور پائیدار سڑکیں میسر نہیں آ سکیں، اس لئے حالیہ تعمیراتی کاموں کا آزادانہ معیار جانچ (کوالٹی آڈٹ) کرایا جائے اور قصوروار ٹھیکیداروں و متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال مانسون کے دوران گڑھوں کی فوری مرمت کے لئے الگ ہنگامی فنڈ بھی مختص نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے بارش کے دوران سڑکوں کی بروقت مرمت ممکن نہیں ہو پا رہی ہے۔ اگر پیشگی انتظام کیا جاتا تو عوام کو اس قدر پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔سماج وادی پارٹی کے صدر انس انصاری نے انقلاب کو بتایا کہ صرف چند دن کی بارش میں بھیونڈی کی سڑکوں کا ٹوٹ جانا کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے معیار پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ جگہ جگہ گڑھوں کے باعث شہریوں، خصوصاً دو پہیہ سواروں کی جان خطرے میں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناقص تعمیراتی کاموں کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے، ذمہ دار ٹھیکیداروں اور افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور مانسون کے دوران گڑھوں کی فوری مرمت کرکے شہریوں کو محفوظ آمدورفت کی سہولت فراہم کی جائے۔
انتظامیہ کا موقف
سٹی انجینئر جمیل پٹیل نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں سڑکوں کی مرمت کے لئے تقریباً ۱۰؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً ۶؍ کروڑ روپے کے ری سرفیسنگ کے کام مکمل کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے دوران مستقل مرمت ممکن نہ ہونے کے باعث فی الحال بجری اور کرشڈ اسٹون کی مدد سے گڑھوں کو عارضی طور پر بھرا جا رہا ہے جبکہ مانسون کے لئے علیحدہ مرمتی تجویز بھی تیار کی جا رہی ہے۔ ضروری مالی منظوری کے بعد شہر بھر میں بڑے پیمانے پر سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔