• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں کیسيو کی اینالاگ جی شاک گھڑیوں کا رجحان

Updated: October 23, 2026, 6:12 PM IST | Tokyo

جاپانی گھڑی ساز کمپنی کیسيو نے ہندوستان میں بدلتے ہوئے فیشن رجحانات اور نوجوان صارفین کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی سوئیوں والی گھڑیوں پر توجہ بڑھا دی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کمپنی نے اپنی مشہور جی شاک گھڑیوں کی نئی ۲۵۰۰؍ سیریز ہندوستانی بازار میں متعارف کرائی ہے۔

G Shock.Photo:INN
جی شاک۔ تصویر:آئی این این

جاپانی گھڑی ساز کمپنی کیسيو نے ہندوستان میں بدلتے ہوئے فیشن رجحانات اور نوجوان صارفین کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی سوئیوں والی گھڑیوں پر توجہ بڑھا دی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کمپنی نے اپنی مشہور جی شاک گھڑیوں کی نئی ۲۵۰۰؍ سیریز ہندوستانی بازار میں متعارف کرائی ہے، جو مضبوط ساخت، دلکش ڈیزائن اور روایتی اینالاگ انداز کا امتزاج پیش کرتی ہے۔ اس سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ڈجیٹل اسکرین اور بلیوٹوتھ رابطے کے بجائے روایتی گھڑی کے ڈائل اور سوئیوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق، نوجوان صارفین اب صرف وقت دیکھنے کے لیے گھڑی نہیں خریدتے، بلکہ اسے اپنے لباس، شخصیت اور طرزِ زندگی کا حصہ بھی سمجھتے ہیں۔ اس رجحان نے کیسيو کو ایسی گھڑیوں پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دی ہے جو جدید انداز کے ساتھ مضبوطی اور سادگی بھی فراہم کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے:چین میں دھوم مچانے کو تیار مارول کی فلم ’’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘

آج کے دور میں اسمارٹ واچز کے ذریعے فون کی اطلاعات، صحت سے متعلق معلومات اور مختلف ڈجیٹل سہولتیں کلائی پر دستیاب ہیں، لیکن کیسيو کے خیال میں صارفین کا ایک طبقہ مسلسل رابطے اور اسکرین پر انحصار سے ہٹ کر سادہ اور پائیدار گھڑیوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ کمپنی بھارت میں اسی رجحان سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ کیسيو انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر تاکوتو کیمورا کے مطابق، ہندوستان کی نوجوان آبادی عالمی فیشن سے متاثر ہوتی ہے، لیکن اپنی مقامی پسند اور ضروریات کے مطابق مصنوعات کا انتخاب بھی کرتی ہے۔ اسی لیے روایتی اینالاگ گھڑیاں اب محض وقت بتانے کا ذریعہ نہیں بلکہ فیشن اور ذاتی شناخت کی علامت بھی بن رہی ہیں۔جی شاک ۲۵۰۰؍ سیریز کو کمپنی کی پہلی جی شاک گھڑی DW-5000C کے ڈیزائن اور اس کی مضبوطی کی روایت سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں نمایاں ڈائل، تہہ دار ساخت، واضح نشانات اور روشنی و سائے کا منفرد امتزاج پیش کیا گیا ہے۔اس سیریز میں ریزن اور دھاتی ظاہری ساخت والے ماڈل شامل ہیں۔ اس کا مقصد ایسی گھڑی پیش کرنا ہے جو روزمرہ استعمال کے ساتھ فیشن، سفر اور بیرونی سرگرمیوں کے لیے بھی موزوں ہو۔ کمپنی نے اس میں ملٹی مشن ڈیٹ فنکشن جیسی سہولت بھی شامل کی ہے، جبکہ گھڑی کی ساخت جی شاک کی مضبوطی اور جھٹکوں سے تحفظ کی روایت کو برقرار رکھتی ہے۔ 
کیسيو کے لیے ہندوستان محض ایک بڑی صارف منڈی نہیں بلکہ مستقبل میں کاروبار بڑھانے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ کمپنی کے عالمی سربراہ شن تاکانو نے ستمبر  ۲۰۲۶ء میں بتایا تھا کہ کیسيو آئندہ پانچ برسوں میں  ہندوستان میں اپنا کاروبار دُگنا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ ہندوستانی کمپنی کی عالمی منڈیوں میں امریکہ، یورپی یونین اور جاپان کے بعد چوتھے اہم بازار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ کمپنی نے ۲۰۳۰ء تک ہندوستان میں اپنے اسٹورز کی تعداد موجودہ ۸۷؍ سے بڑھا کر ۲۰۰؍ کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ مقامی پیداوار بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ کیسيو کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال مکمل طور پر اسمارٹ واچ بنانے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے روایتی گھڑیوں، جی شاک اور اپنی ونٹیج گھڑیوں کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بین اسٹوکس نے ایشیز میں واپسی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا

کیسيو کی حکمت عملی میں نوجوان صارفین، خصوصاً نئی نسل، کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ونٹیج ڈیزائن، نمایاں ڈائل، مختلف رنگوں اور مضبوط ساخت والی گھڑیوں کی مانگ کمپنی کے لیے ترقی کے نئے امکانات پیدا کررہی ہے۔ کیسيو کی عالمی انتظامیہ کے مطابق، جی شاک اور ونٹیج گھڑیوں کی فروخت میں دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ درج کیا گیا ہے، جبکہ ۱۹۸۳ء میں آغاز کے بعد جی شاک کی عالمی فروخت تقریباً ۱۶؍ کروڑ گھڑیوں تک پہنچ چکی ہے۔  اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھڑیوں کی صنعت میں مقابلہ صرف زیادہ ڈجیٹل سہولتیں فراہم کرنے تک محدود نہیں رہا۔ ڈیزائن، برانڈ کی ساکھ، مضبوطی، معیار اور ذاتی انداز بھی خریداری کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مجموعی طور پر، کیسيو کی  ہندوستانمیں اینالاگ جی شاک گھڑیوں پر توجہ اس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت کمپنی صارفین کو اسکرین سے ہٹ کر مضبوط، پائیدار اور فیشن کے مطابق گھڑیاں فراہم کرنا چاہتی ہے۔ جی شاک ۲۵۰۰؍ سیریز کا آغاز، ہندوستان میں اسٹورز کی توسیع اور کاروبار دُگنا کرنے کا ہدف ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی روایتی گھڑیوں کو مستقبل کی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK