• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں ایس آئی آر اور سی ای سی کے خلاف احتجاج، متعدد مظاہرین حراست میں

Updated: October 23, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

دہلی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ مظاہرین نے جمہوریت کی بحالی، چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی اور ایس آئی آر کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

A scene of protest against Gyanesh Kumar. Photo: INN
گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ، دہلی میں احتجاجی مارچ، متعدد گرفتار

وسطی دہلی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف نکالے گئے مارچ کے دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ مظاہرین الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے ہیڈکوارٹر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ 
احتجاج کا پس منظر
چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جمعہ کو وسطی دہلی میں مارچ جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو بھی جمعہ کو اس مارچ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس مارچ کا اہتمام ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ نامی اتحاد نے کیا ہے، جو ایک ہفتہ قبل طلبہ، کسانوں اور شہری سماج کی تنظیموں نے تشکیل دیا تھا۔ مارچ دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع بنگلہ صاحب گرودوارے سے شروع ہو کر پٹیل چوک کے قریب الیکشن کمیشن کے دفتر تک نکالا گیا۔ اس مارچ کا مقصد ’’جمہوریت کی بحالی‘‘، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ماتھیران میں تیندوے کے بچے دکھائی دئیے، سیاح اور مقامی افرادسراسیمہ

’ہر گلی میں جنتر منتر‘
’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ نے۱۸؍ اکتوبر کو جاری بیان میں کہا تھا کہ ’’جمہوریت کی بازیابی کیلئے عوامی مارچ کسی بھی مقام پر پولیس سے اجازت طلب نہیں کرے گا۔ ‘‘ پلیٹ فارم نے پولیس، نیم فوجی دستوں اور جیل حکام کو پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے بھی خبردار کیا تھا۔ اس پلیٹ فارم نے ’’نو ایس آئی آر‘‘ مہم شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا نعرہ ہے: ’’ہر گلی میں جنتر منتر، ہر گاؤں میں جنتر منتر، میرا گھر جنتر منتر۔ ‘‘’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ اتحاد۱۴؍ اکتوبر کو نئی دہلی کے سرجیت بھون میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس میں کسانوں، مزدوروں، خواتین، طلبہ، آدیواسیوں، دلتوں اور اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں شامل ہیں۔ اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کی کارروائی غیر قانونی ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں کو۲۰۲۴ء سے پہلے کی حالت میں بحال کیا جائے اور الیکشن کمیشن کے مینوئل اور کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی ہدایات کے مطابق سماجی آڈٹ کے ذریعے ان کی تجدید کی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: واشم میں گلال پھینکنے پر کشیدگی دُرگا وِسرجن جلوس کے ٹیپوسلطان چوک سے گزرتے وقت تنازع ہوا

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار الیکشن کمیشن سے متعلق ایک تنازع کے مرکز میں ہیں۔ یہ تنازع اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ۱۰؍ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور طریقۂ کار پر کم از کم۱۴؍ مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی سمیت اہم فیصلے پورے کمیشن نے متفقہ طور پر کئے تھے۔ 
آر ٹی آئی سے انکشاف: کابینہ سکریٹریٹ نے الیکشن کمشنروں کے خطوط چیف الیکشن کمشنر کو بھی بھیجے
حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، کابینہ سکریٹریٹ نے الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خطوط چیف الیکشن کمشنر جیانیش کمار کے دفتر کو بھی بھیجے تھے۔ ان خطوط میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ کے مبینہ نامناسب طرزِ عمل سے متعلق شکایات درج تھیں۔ یہ خطوط محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کو بھی ارسال کئے گئے تھے۔ آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں جاری کردہ ایک دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ۳؍ اگست کو کابینہ سکریٹریٹ نے ان خطوط پر چیف الیکشن کمشنر جیانیش کمار کی رائے لینے کی تجویز پیش کی تھی۔ ۴؍ اگست کی ایک دوسری دستاویز میں کہا گیا کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے یہ خطوط اپنی انفرادی حیثیت میں لکھے تھے، نہ کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے باضابطہ مراسلے کے طور پر۔ دونوں الیکشن کمشنروں کو صرف اس بات کی تصدیق بھیجی گئی کہ ان کے خطوط موصول ہو گئے ہیں۔ یہ رسیدیں ۵؍ اگست کی تاریخ کی تھیں اور ان کی نقول محکمۂ عملہ و تربیت کے سکریٹری، ڈی او پی ٹی کے اسٹیبلشمنٹ افسر اور چیف الیکشن کمشنر کے پرنسپل پرائیویٹ سکریٹری کو بھی بھیجی گئی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK