یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق دو سالہ جنگ نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے، ان کے نفسیاتی زخموں کا علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔
غزہ میں ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسف‘ نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فضائی حملوں اور شدید سردی سے اموات کا سلسلہ جاری ہے جہاں اکتوبر کے آغاز سے اب تک۱۰۰؍ سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان اعدادوشمار کی رو سے جنگ بندی کے دوران تقریباً روزانہ ایک بچہ ہلاک ہو رہا ہے۔ یہ ہلاکتیں بمباری، ڈرون حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہ راست فائرنگ اور ریموٹ کنٹرول کواڈ کاپٹروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔
حالیہ دنوں شدید سرد موسم کے باعث ۶؍ بچے ہائپوتھرمیا سے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ پناہ گزینوں کے کمزور خیمے۳۰؍ تا۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز سرد ہواؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہیں تحفظ دینے کے لئے پناہ کے مزید سامان کی اشد ضرورت ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باعث بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے۔ یونیسف نے اپنے شراکت داروں کے تعاون سے غزہ کے شمالی علاقے میں شفا خانے قائم کئے ہیں اور حفاظتی ٹیکوں کی خدمات کو وسعت دی ہے۔
شدید زخمی بچوں کے لئے طبی بنیاد پر علاقے سے انخلاء تاحال معطل ہے۔ نہ تو ان بچوں کو غزہ سے باہر لے جانے کے لئے درخواستوں کی منظوری میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی مزید ممالک کو ان بچوں کو قبول کرنے پر آمادہ کیا جا سکا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ اپنے حالیہ دور ۂ غزہ میں انہوں نے کئی ایسے بچوں اور خاندانوں سے بات چیت کی جنہیں طویل اور پیچیدہ سرکاری عمل مکمل کرنے کے باوجود طبی انخلاء سے محروم رکھا گیا۔ ان میں ایک ۹؍ سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی آنکھ میں بم کے ٹکڑے پھنسے ہوئے ہیں اور مناسب علاج نہ ملنے پر وہ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی کھو دے گا۔ غزہ سٹی کے الشفا اسپتال میں داخل ایک بچی کو بیرون ملک علاج کے لئے نہ بھیجا گیا تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے جبکہ ایک بچے کی جان بچانے کے لئے اس کی ٹانگ کاٹنا ضروری ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے ضابطے کی رکاوٹوں کے باعث ادویات اور خوراک کی ترسیل میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ بعض ضروری طبی اشیاء کو اس لئے غزہ لانے کی اجازت نہیں کہ اسرائیلی حکام کے مطابق، انہیں جنگی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یونیسف کے ترجمان نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر عائد کی جانے والی حالیہ پابندی کے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے جو آئندہ ماہ نافذ ہو جائے گی اور ان کے بقول یہ اقدام لوگوں کو پہنچنے والی ضروری امداد روکے جانے کے مترادف ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود بین الاقوامی میڈیا کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی حالانکہ اس کی اشد ضرورت ہے۔
اس دوران جیمز ایلڈر نے واضح کیا ہے کہ دو سالہ جنگ نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے نفسیاتی زخموں کا علاج نہیں ہو پا رہا اور یہ صورتحال جس قدر طول پکڑتی جا رہی ہے ان کے نقصان کا مداوا اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔