Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھرشماری کامرحلہ : شمارکنندگان عوام کےطرزعمل سے پریشان

Updated: June 02, 2026, 1:58 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

اہلکار کوگھروں میں تالا لگا ہونے ،گھر کے سربراہ سے ملاقات نہ ہونےاور کچھ علاقوں میں مراٹھی میں بات کرنے کے اصرار کے علاوہ د یگر مسائل کی وجہ سے دشواری ہو رہی ہے ۔

Enumerators Can Be Seen On Duty.Photo:INN
انومریٹر ڈیوٹی پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این
 مردم شماری کے پہلے مرحلے کےتحت شمار کنندگان گھر گھر جا کر لوگوں کی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں ۔ اس دوران ڈیوٹی پر تعینات اہلکار ایک توشدید گرمی اور دوسرے عوام کے تعاون نہ کرنے سے پریشان ہیں۔ چھٹیوںمیں لوگوں کے آبائی وطن جانے سے متعدد گھروں میں تالا لگا ہونے ،گھر کے سربراہ سے ملاقات نہ ہونے، کرایہ پر رہنے والوں کی تفصیلات معلوم کرنے میں آنے والی دقتو ں، کئی گھرانوں میں گھر کے سربراہ گھر نہیں آتے، یہ کہہ کر دروازے بند کر نے سے پہلے کہا جاتا ہے کہ بعد میں آؤ، اسی طرح کچھ علاقوں میں برقعہ پوش اہلکاروں سے مراٹھی میں سوال نامہ لانے کیلئے بھی کہا جا رہا ہے ۔لوگ سوالات کے جواب دینے کے بجائے اہلکار سے ہی سوالات کر رہے ہیں ۔
اندھیری کی شمار کنندہ شلپا کدم نے کہا کہ ’’جن عمارتوں میں لفٹ کی سہولت نہیں ہے ، ان ۴؍منزلہ عمارتوں پر چڑھ کر جانا پڑ رہا ہے ۔دقت اُٹھاکر ہم گھروں پر جا رہے ہیں تو ہمیں متوقع جوابات نہیں مل رہے ہیں ۔کچھ گھروں میں تالے لگے ہوئے ہیں اور جن مکانات میں کرایہ دار رہتے ہیں ان کے بارے میں کوئی صحیح معلومات نہیں دے ر ہا ہے۔‘‘
جوگیشوری میں واقع مدنی اُردوہائی اسکول کے معلم اظہر حسین نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ہم نے شمارکنندگان( ٹیچروں) کی سہولت کیلئے سینسس ۲۰۲۶ء گائیڈنس گروپ بنایا ہے جس میں ۸۷۱؍ اراکین ہیں۔ گروپ میں مردم شماری میں آنے والی دقتوں کا ازالہ کیا جاتا ہے ۔عموماً مردم شماری کیلئے بنائے گئے ہائوس لسٹنگ آپریشن (ایچ ایل او) ایپ کے پوری فعالیت سے کام نہ کرنے کی شکایت سامنے آ رہی ہے ۔ دوسرے مردم شماری سے متعلق بیداری مہم نہ چلانے سے بڑی پریشانی ہو رہی ہے ، بیشتر لوگوں کو اس بارے میں معلومات نہیں ہے ۔ متعدد سوسائٹیز میں گنتی کرنے کی اجازت کیلئے ۸۔۱۰؍ دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ بیداری نہ ہونے سے عوام اور شمارکنندگان میں لفظی جھڑ پ ہو رہی ہے ۔ لوگ شمارکنندگان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ، شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود ان سے متعلقہ محکمہ کالیٹر طلب کیا جا رہاہے ،لیٹر دینے کے باوجود سوسائٹی میں گنتی کرنے کیلئے ایک آد ھ ہفتے کے بعد کا وقت دیا جا رہا ہے ۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ۶؍ ٹیچروں پر ایک سپروائزر مقرر کیا گیا ہے ۔ ان سپروائزروں کاہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے تعلق ہے ۔ انہیںمردم شماری کے کاموں کاتجربہ نہ ہونے سے ہماری پریشانی اور بڑھ گئی ہے ۔ ان سپروائزروں کو پوری طرح ایپ چلانا بھی نہیں آتا ہے ۔ ٹیچروں کے ساتھ ان کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ متعلقہ ایپ میں بھی تکنیکی دشواریاں آ رہی ہیں جن سے کام کرنے میں دقت ہو رہی ہے ۔‘‘
 
 
باندرہ کی پلوی کالے کے بقول’’ خاندان کے سربراہ کے گھر پر نہ ہونے سے ہمیں اتوار یا چھٹی والے دن یا پھر شام کو آنے کیلئے کہا جا رہا ہے ۔ہمارے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ہم پرہی سوالات کے بوچھار کئے جا رہے ہیں۔‘‘ جھوپڑپٹی ،چالوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو مناسب معلومات نہ ہونے سے یہاں کے لوگ شمارکنندگان کے سوالات کا جواب دینےکے بجائے ان سے ہی الگ قسم کے سوالات کرنے لگتے ہیں ۔مثلاً پیاری بہن ( لاڈلی بہن) کی رقم کب ملے گی؟ گنتی کرنے والے اس طرح سوالات سے تنگ آچکے ہیں۔
 
 
اندھیری کی ایک سوسائٹی میں برقعہ پوش خاتون ٹیچر کے ساتھ مکینوںنے غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا،انہیں پہلے متعلقہ محکمہ سے لیٹر لانےکیلئے کہا،لیٹر پیش کرنے کے بعدبھی انہیں مردم شماری کرنےکی اجازت نہیں دی اورکہاکہ آپ فارم لے آئیں ہم اسے پُرکرکے دے دیں گے۔بعدازیں وہ اپنے بیٹے کےساتھ انگریزی میں تیارکیاہوا ،معلوماتی فارم لے کر جب سوسائٹی میں پہنچیں توان سے کہاگیاکہ وہ انگریزی کےبجائے مراٹھی میں فارم لائیں اور مراٹھی میں ہی بات کریں ،جس کے بعد ا نہوںنے مراٹھی میں فارم تیارکرکے دیا۔واضح رہے کہ مذکورہ خاتون کے پیروں میں تکلیف ہے ، انہوں نے متعلقہ محکمہ سے مردم شماری کی ڈیوٹی نہ دینے کی درخواست کی تھی ،اس کے باوجود انہیں ڈیوٹی دی گئی اور کہاگیاکہ وہ ڈیوٹی پر جاتے وقت اپنے اہل خانہ کے کسی فرد کی مدد حاصل کرسکتی ہیں ، اسی وجہ سے وہ اپنے بیٹےکو ساتھ لے گئی تھیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK