سینٹر ل ریلوے میں ۱۱۸؍مقامات نشیبی اور۱۸؍سیلاب زدہ کے طور پرنشان زد، ان سیلاب زدہ حصوں میں سائن، کرلا، چونا بھٹی، وکھرولی، کانجور مارگ اور تلک نگرمیں کام پورا۔
EPAPER
Updated: June 28, 2026, 5:00 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
سینٹر ل ریلوے میں ۱۱۸؍مقامات نشیبی اور۱۸؍سیلاب زدہ کے طور پرنشان زد، ان سیلاب زدہ حصوں میں سائن، کرلا، چونا بھٹی، وکھرولی، کانجور مارگ اور تلک نگرمیں کام پورا۔
سینٹرل ریلوے میں اب بھی مانسون کی تیاری جاری ہے، حالانکہ جون کے پہلے ہفتے تک تمام تیاریاں مکمل کرلینے کادعویٰ کیا جاتا ہے۔ ممبئی ڈویژن میں خصوصاً گھاٹ سیکشن پر ۱۱۷؍ مقامات کو نشیبی اور ۱۸؍ الگ الگ مقامات کو سیلاب زدہ قرار دیا گیا ہے جہاں تیز بارش کے دوران پانی جمع ہوجاتا ہے۔ اس میں کچھ جگہوں پرچٹان کھسکنے کا بھی خطرہ برقرار رہتاہے۔ سیلاب زدہ قرار دیئے جانے والے مقامات میں سائن، کرلا، چونا بھٹی، وکھرولی، کانجور مارک اور تلک نگر بھی شامل ہیں، یہاں کام پورا کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر مقامات پر پل کی توسیع، ٹریک الیویشن، مائیکرو ٹنلنگ اور نکاسیِ آب میں بہتری لانے کا عمل شامل ہے جو ۲۰۲۸ء تک پورا کیا جاسکےگا۔
ان ہی میں سے تھانے میں مائیکروٹنلنگ کو ساڑھے ۵؍ کروڑ کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ پٹریوں پرجمع ہونے والے پانی کی نکاسی کے لئے ۲۱۰؍ ہیوی ڈیوٹی ڈرینیج پمپ نصب کئے گئے ہیں۔ ان تیاریوں کے حوالے سے سینٹرل ریلوے انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ موسم باراں میں ٹرینیں معمول کے مطابق چلائی جائیں گی۔
تھانے اسٹیشن پرپٹریوں کے نیچے۱۱۰؍میٹرلمبی ۲؍ آرسی سی لائنیں
پانی کی بلارکاوٹ نکاسی کو یقینی بنانے کے لئے نالوں، پلوں اور پلیوں کی صفائی کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔ مائیکرو ٹنلنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ریلوے پٹریوں کے نیچے دو۱۱۰؍میٹر لمبی آر سی سی پائپ لائنیں تعمیر کی گئی ہیں۔ اس کام سے تھانے اسٹیشن پر طویل عرصے سے پیدا ہونے والے سیلابی مسئلے کوحل کر دیا ہے جہاں تیز بارش کے دوران پانی کی سطح پٹریوں سے اوپرہو جاتی تھی۔
اسی طرح پانی کی نکاسی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پورے سیکشن میں پلوں کی تعمیر نو اور آبی گزرگاہوں کو بہتربنانے کے کام کئے جا رہے ہیں۔ ۲۵-۲۰۲۴ءکے دوران ۴۲؍پلوں کو توسیع دینے کا کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نجی اسپتالوں میں فیس چارٹ لگانا لازمی
گھاٹ سیکشن پر کس کس طرح کی تیاری کی گئی ہے؟
مانسون کے لحاظ سے کلیان، لوناولہ، کرجت، کسارا اور اگت پوری کے درمیان گھاٹ کے خطرناک حصوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہاں مانسون کے دوران چٹان کھسکنے، کٹاؤ اور تودے گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ کوکن ریلوے کارپوریشن لمیٹڈ کی مدد اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے ذریعے جدید حفاظتی طریقہ کار جیسے راک فال بیریئرز، بولڈر جال، بولڈر فال باڑھ، سرنگ کے داخلی دروازے، دیواروں کی مضبوطی برقرار رکھنے اور بولڈر کیچنگ سمپس کو لگایاجا رہا ہے۔
ان تیاریوں کااثر یہ ہوا ہے کہ گزشتہ ۳؍ برسوں میں وسیع حفاظتی کاموں نے گھاٹ کے حصوں میں پتھر گرنے کے واقعات اور موسم سے متعلق رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔
مانسون کی تیاری کے وسیع کاموں میں پٹریوں کی دیکھ بھال اور حساس مقامات پر لفٹنگ، سرنگوں کا معائنہ، اسٹیشن پلیٹ فارمز اور ریلوے عمارتوں کی دیکھ ریکھ کے ساتھ مانسون کے دوران غیرمحفوظ علاقوں میں گشتی ٹیموں کی تعیناتی شامل ہے۔
کارپوریشنوں کےساتھ مشترکہ عمل
سینٹرل ریلوے میونسپل حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، بشمول ممبئی میونسپل کارپوریشن، تھانے میونسپل کارپوریشن، کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاوہ فیلڈ کنٹرول اور ایمرجنسی رسپانس کے لئے مربوط کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ معائنہ اور پری مانسون کوآرڈینیشن میٹنگز بھی منعقد کی گئی ہیں۔ یہ تفصیلات سینٹرل ریلوے کے چیف پی آر او ڈاکٹر سوپنل نیلا نے نمائندۂ انقلاب کوبتائیں۔