Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی ای ٹی امتحان کی منسوخی سے ریاست بھر کے لاکھوں اُمیدوار پریشان

Updated: June 28, 2026, 5:02 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

مہاراشٹر کے مختلف اضلاع، دیہات اور شہروں سے سیکڑوں کلومیٹر کا سفرطے کر امتحانی مراکز پہنچنے والے سیکڑوں اُمیدواروں کوشدید دشواری ہوئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مہاراشٹراسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل (ایم ایس ای سی ) نے ٹی ای ٹی کے سوالیہ پرچہ کے لیک ہونے سے اتوار ۲۸؍جون کو ہونے والے امتحان کو منسوخ کر دیا ہے۔ امتحان منسوخ ہونے سے لاکھوں اُمیدواروں میں ایم ایس ای سی کے تئیں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اُمیدوار ایم ایس ای سی کو اس سنگین غلطی کیلئے ذمہ دار ٹھہرارہےہیں۔ اس لاپروائی کے ذمہ دار تمام افسران کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان پر بھاری مالی جرمانہ عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم سے اس معاملے میں فوری مداخلت کر کے قصورواروں کیخلاف سخت کارروائی کرنے اور معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ 
جلگائوں کے ایک اُمیدوار نے بتایا کہ ’’ میرا سینٹر ناسک میں لگاتھا۔ چونکہ اتوار کی صبح ساڑھے ۱۰؍بجے کا پیپر تھا، پیپر شروع ہونے سے ۲؍ گھنٹے قبل امتحان گاہ میں پہنچنےکی ہدایت دی گئی تھی اس لئے میں نے سوچاکہ سنیچر کو ہی ناسک پہنچ جائوں ۔ ٹرین سے جلگائوں سے ناسک کا سفر۴؍گھنٹوں کا ہے۔ ۲؍گھنٹے کا سفر مکمل کرنے پر امتحا ن کے منسوخ ہونے کی اطلاع ملی۔ ناسک میں میرا کوئی نہیں ہے، مسجد میں ایک رات قیام کرنے کا منصوبہ تھا۔ ناسک پہنچ کر کچھ وقت گزارنے کے بعدمیں دوبارہ جلگائوں کیلئے روانہ ہوگیا۔ بڑی محنت سے تیاری کی تھی لیکن امتحان کے منسوخ ہونے سے بہت مایوسی ہوئی۔ ایم ایس ای سی کوخیال رکھناچاہئے، ایسانہیں ہونا چاہئے۔ ‘‘
اکولہ کے محمد حسِن دیشکمھ کے بقول’’میرا سینٹر واشم میں لگاتھا۔ اکولہ سے واشم کافاصلہ تقریباً ۵۰؍کلومیٹر کا ہے لیکن احتیاط ً میں نے سنیچرکو ہی واشم جانے کا فیصلہ کیا۔ واشم جانے کیلئے موٹر کار بُک کی تھی تاکہ راستے میں کسی طرح کی دقت نہ ہو اور وقت پر پہنچ جائوں۔ اپنے ساتھ چھوٹے بھائی کو بھی لے لیاتھا لیکن آدھے راستے میں امتحان کے ملتوی ہونے کی اطلاع ملی۔ چنانچہ آدھے راستے سے ہم دونوں بھائی اکولہ لوٹ آئے۔ آمدورفت اور کھانے پینےپر ہزاروں روپے خرچ ہوئے اور امتحان بھی نہیں دے سکا جس کابہت افسوس ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: پھر پرچہ لیک، پھر امتحان رد، پہلے نیٹ اَب ٹیٹ

مالیگائوں کے الطاف احمد نے بتایا کہ ’’مالیگائوں کے بیشتر اُمیدواروں کا سینٹر دور دراز کے علاقوں میں لگا ہے جس کی وجہ سے اتوار ۲۸؍ جون کیلئے موٹرگاڑیوں کی بکنگ بڑی مشکل سے ہو رہی تھی۔ ہم نے ۱۵؍دنوں قبل گاڑی بُک کرائی تھی۔ امتحان کی ساری تیاریاں مکمل کرلی تھی لیکن سنیچر کو اچانک امتحان کے ملتوی ہونے کی اطلاع سے دھچکا لگا۔ امتحان ملتوی ہونے سے لاکھوں اُمیدوار پریشان ہیں۔ ہرکسی کی اپنی منصوبہ بندی ہوتی ہے جو کہ امتحان منسوخ ہونے سے منتشر ہوگئی ہے۔ اس معاملہ کی سی بی آئی سے تحقیقات کرائی جائے، یہی ہمارا مطالبہ ہے۔ ‘‘
ناندیڑ کے معلم فہیم انصاری اور جوگیشوری (ممبئی ) کی حمیرہ پریہار نے بھی امتحان کے منسوخ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا اوربتایاکہ ساری تیاری کےباوجود امتحان نہ ہونے سے ذہنی دبائو بڑھ گیاہے۔  
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار احمد کے مطابق ’’ٹی ای ٹی امتحان کامنسوخ ہونا لاکھوں اُمیدواروں سے ناانصافی ہونے جیسا ہے۔ اس کیلئے ریاستی امتحانی پریشد کے کمشنر اور اس معاملے کے تمام ذمہ دار افسران کو فوری طور پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اس پورے معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تفتیش کرائی جانی چاہئے۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ صرف ۲۴؍گھنٹہ پہلے امتحان کے منسوخ کئے جانے سے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع، دیہات اور شہروں سے سیکڑوں کلومیٹر کا سفرطے کر امتحانی مراکز پہنچ جانے والے متعدد اُمیدواروں کو بڑی مایوسی ہوئی ہے۔ ان اُمیدواروں نے سفر کے اخراجات برداشت کئے ہیں۔ ذہنی و جسمانی مشقت اٹھائی مگر حکومت اور متعلقہ محکمہ کی سنگین غفلت سے ان کی محنت رائیگاں ہوگئی۔ اس کیلئے تمام خاطی افسران پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جائے اور وصول کی گئی رقم متاثرہ اُمیدواروں کے بینک کھاتوں میں بطور معاوضہ منتقل کی جائے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK