Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ایس ایس سیکوریٹی معاملہ، عرضداشت خارج

Updated: April 22, 2026, 2:07 PM IST | Ali Imran | Nagpur

بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے سماجی کارکن للن کشور سنگھ کی دائر کردہ مفادعامہ کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں انہوں نےآر ایس ایس دفتر اور اسکے سربراہ موہن بھاگوت کو فراہم کردہ ’زیڈ پلس‘ سیکوریٹی کے اخراجات وصول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

RSS Office.Photo:INN
آر ایس ایس دفتر۔تصویر: آئی این این
 بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے سماجی کارکن للن کشور سنگھ کی دائر کردہ  مفادعامہ کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں  انہوں نےآر ایس ایس دفتر اور اسکے سربراہ موہن بھاگوت کو فراہم کردہ ’زیڈ پلس‘ سیکوریٹی کے اخراجات وصول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ایک روز قبل چیف جسٹس چندر شیکھر اور جسٹس انل کِلور کی بنچ کے سامنے ہوئی سماعت میں عدالت نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ موہن بھاگوت کی سیکوریٹی پر ہر ماہ ۴۰؍ لاکھ سے زائد روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ  آر ایس ایس رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے، اسے ’زیڈ پلس‘ سیکوریٹی دی گئی ہے۔اس کا سرکاری خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ للن کشور سنگھ کا مطالبہ تھا کہ یہ خرچ آر ایس ایس سرسنگھ چالک سے وصول کیا جائے۔
 
 
عرضی گزار نے سپریم کورٹ کے ۲۰۲۳ کیس ’مرکزی حکومت بمقابلہ وکاس ساہا‘ کا حوالہ دیا  جس میں ’زیڈ پلس‘ سیکوریٹی دینے پر متعلقہ شخص سے فیس وصول کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ للن سنگھ نے ۱۲؍فروری ۲۰۲۶ اور ۲۷؍ فروری ۲۰۲۶ کو متعلقہ حکام کو تحریری درخواست پیش کی تھی مگر اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔  آخر کار انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔  درخواست گزار نے کہا تھا کہ یہ پٹیشن خالصتاً عوامی مفاد میں ہے اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کروایا جائے اور ’زیڈ پلس‘ سیکوریٹی کے اخراجات آر ایس ایس  سے  وصول کئے جائیں۔ پوری ریاست کی نظر مفاد عامہ کی اس عرضی پر تھیں، تاہم ہائی کورٹ ناگپور بینچ چیف جسٹس چندر شیکھر اور جسٹس انیل کِلور کی بنچ  نےکہا کہ عرضی گزار نے اخبارات کی رپورٹ کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کیا ہے۔ آر ایس ایس کی سیکوریٹی کے تعلق سے کوئی ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی ہے۔ عرضی گزار نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کس حیثیت سے یہ عرضداشت داخل کر رہا ہے۔ صرف اتنا کہا ہے کہ وہ ایک ہندوستانی شہری ہے۔ عدالت کو اس عرضداشت میں کوئی مفاد عاملہ والی بات نظر نہیں آ رہی ہے بلکہ یہ کسی کے اکسانے پر داخل کی گئی عرضداشت معلوم ہوتی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مداخلت سے صاف طور پر انتظار کر دیا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK