Updated: November 01, 2026, 7:14 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نے کپاس کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی سے دی گئی رعایت کی مدت میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے ۳۱ ؍دسمبر ۲۰۲۶ء تک بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو خام مال کی فراہمی میں سہولت ملنے اور پیداواری لاگت کم رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
مرکزی حکومت نے کپاس کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی سے دی گئی رعایت کی مدت میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے ۳۱ ؍دسمبر ۲۰۲۶ء تک بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو خام مال کی فراہمی میں سہولت ملنے اور پیداواری لاگت کم رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد کپاس پر مبنی صنعتوں کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانا اور گھریلو صنعت کاروں کو خام کپاس کی دستیابی سے متعلق مشکلات سے راحت فراہم کرنا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے محکمہ محصولات نے ۳۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو نوٹیفکیشن نمبر 35/2026-Customs جاری کیا، جس کے ذریعے پہلے سے نافذ رعایت کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے ۳۰ ؍مئی ۲۰۲۶ ءکے نوٹیفکیشن کے تحت یکم جون سے ۳۱ ؍اکتوبر تک کپاس کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دی تھی۔ اب اس مدت کو بڑھا کر ۳۱ ؍دسمبر ۲۰۲۶ء کردیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے دی گئی رعایت کے تحت کسٹم ٹیرف ہیڈنگ ۵۲۰۱؍ کے تحت آنے والی ایسی خام کپاس جو ابھی کارڈنگ یا کومبنگ کے عمل سے نہیں گزری، اس کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (Basic Customs Duty) اور زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس سے مکمل چھوٹ برقرار رہے گی۔ یہ بات اہم ہے کہ تازہ نوٹیفکیشن میں رعایت کی مدت بڑھائی گئی ہے، جبکہ اس کے دائرہ کار یا اہل اشیا کی شرائط میں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ دیگر قابلِ اطلاق ٹیکس یا محصولات کا معاملہ الگ متعلقہ ضوابط کے تحت دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:زمان، منہاس اور بیگ کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز جیتی
وزارتِ ٹیکسٹائل کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو مناسب قیمتوں پر خام کپاس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ کپاس دھاگے، کپڑے اور ملبوسات کی تیاری میں بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس کی درآمدی لاگت میں کمی سے اسپننگ ملوں، کپڑا تیار کرنے والی فیکٹریوں اور گارمنٹس مینوفیکچررز کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ برقرار رہنے سے صنعت کاروں کو خام مال کی خریداری میں زیادہ لچک ملے گی، پیداواری اخراجات کا دباؤ کم ہوگا اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
کپاس کی درآمد پر ڈیوٹی چھوٹ میں توسیع سے خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (MSMEs) کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ان صنعتوں کے لیے خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مسلسل فراہمی ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے۔ درآمدی کپاس پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی اور متعلقہ سیس کی چھوٹ جاری رہنے سے انہیں اپنی ضرورت کے مطابق خام مال حاصل کرنے اور پیداواری منصوبہ بندی میں سہولت مل سکتی ہے۔
اس اقدام سے دھاگا تیار کرنے والی ملوں، کپڑا بنانے والے اداروں، ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس، ملبوسات تیار کرنے والی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم مصنوعات کی قیمتوں پر اس فیصلے کا حقیقی اثر درآمدی مقدار، خام کپاس کی عالمی قیمتوں اور ملکی بازار کی صورت حال پر منحصر ہوگا۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ملکی کپاس کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کپاس کی دستیابی میں اضافہ، صنعت کو مسابقتی قیمتوں پر خام مال فراہم کرنا اور پوری کپاس و ٹیکسٹائل ویلیو چین کی طویل مدتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پرکاش راج کے سیاسی مؤقف سے خاندان بھی پریشان رہا، اہلیہ پونی ورما کا انکشاف
دوسری جانب ٹیکسٹائل صنعت کی نمائندہ تنظیم کنفیڈریشن آف انڈین ٹیکسٹائل انڈسٹری (CITI) نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم کے چیئرمین اشون چندرن کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مقابلے اور ملکی صنعت کی خام کپاس کی ضروریات کے پیش نظر اس رعایت میں توسیع اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے صنعت کاروں کو پیداواری لاگت قابو میں رکھنے، برآمدی آرڈرز کی تکمیل اور کاروباری منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔
ہندوستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، لیکن ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات اور ملکی پیداوار کے درمیان فرق کے باعث درآمدات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عالمی منڈی میں کپاس کی قیمتوں، موسمی حالات اور ملکی پیداوار سے متعلق خدشات نے صنعت کے لیے خام مال کی دستیابی کو اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس سال نئی فصل کی آمد کے باوجود ملکی کپاس کی قیمتیں مستحکم رہیں، جبکہ ٹیکسٹائل ملیں درآمدی ڈیوٹی میں مزید رعایت کی خواہش مند تھیں۔
حکومت کی جانب سے ۳۱ ؍دسمبر تک ڈیوٹی چھوٹ میں توسیع کو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے لیے قلیل مدتی راحت قرار دیا جارہا ہے۔ اس سے خام مال کی فراہمی بہتر بنانے، پیداواری اخراجات کم کرنے اور ہندوستانی مصنوعات کو عالمی بازار میں زیادہ مسابقتی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس فیصلے کے اثرات کا انحصار آئندہ دو ماہ کے دوران کپاس کی درآمد، ملکی پیداوار اور عالمی قیمتوں کی صورت حال پر ہوگا۔