Inquilab Logo Happiest Places to Work

لوک سبھا میں پی ایم کیئرز فنڈ پر سوالات ضابطوں کے تحت قابلِ قبول نہیں: مرکز

Updated: February 09, 2026, 8:11 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے لوک سبھا سیکریٹریٹ کو باقاعدہ جواب دیا ہے کہ پرائم منسٹر سٹیزن اسسٹنس اینڈ ریلیف ان ایمرجنسی سچویشنز فنڈ (پی ایم کیئرز فنڈ)، پرائم منسٹر نیشنل ریلیف فنڈ (پی ایم این آر ایف) اور نیشنل ڈیفنس فنڈ (این ڈی ایف) جیسے عوامی چندوں پر مبنی فنڈز کے بارے میں سوالات پارلیمنٹ کے کاروباری ضوابط کے تحت قبول نہیں کیے جائیں گے کیونکہ وہ حکومت کے بنیادی معاملات نہیں بلکہ رضاکارانہ عوامی چندوں پر مبنی ہیں، اس لیے ان کے بارے میں لوک سبھا سوالات منظور نہیں کئے جا سکتے۔

Scene of proceedings in the Lok Sabha. Photo: INN
لوک سبھا میں کارروائی کا منظر۔ تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے لوک سبھا سیکریٹریٹ کو تحریری جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ، پی ایم این آر ایف اور این ڈی ایف جیسے چندہ مبنی فنڈز پر لوک سبھا میں سوالات پوچھنا یا بحث کرنا پارلیمانی قواعد کے تحت قابلِ قبول نہیں ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فنڈز کنسولیڈیٹ فنڈ آف انڈیا یا کسی سرکاری بجٹ کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ رضاکارانہ عوامی چندوں پر قائم ہیں، لہٰذا وہ سرکاری کاروبار کے زمرے میں نہیں آتے۔ مرکزی دفتر نے رولز آف پروسیجر اور کنڈکٹ آف بزنس اِن لوک سبھا کے متعلقہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے موضوعات جن کا تعلق حکومتِ ہند کے بنیادی معاملات سے نہیں ہوتا، یا وہ ان اداروں سے متعلق ہیں جو براہِ راست حکومت کے ماتحت نہیں ہیں، ان کے بارے میں سوالات، لوک سبھا کے آدابِ کار میں شامل نہیں کیے جاتے۔ اس بنا پر ایسی بحث یا سوالات کو تصدیق سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کشمیری صحافی عرفان معراج کی بلا مقدمہ حراست غیر قانونی قرار دی جائے‘‘

یاد رہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو کووِڈ ۱۹؍ وبا کے دوران ۲۸؍ مارچ ۲۰۲۰ء کو عوامی ریلیف اور ایمرجنسی مدد کے لیے قائم کیا گیا تھا، اور اسے پبلک چیریٹیبل ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں وزیراعظم، وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ مالیات جیسی اعلیٰ سرکاری عہدے شامل ہیں، تاہم مرکزی حکومت بارہا یہ موقف سامنے لائی ہے کہ چونکہ پی ایم کیئرز فنڈ رضاکارانہ چندوں پر قائم ہے اور سرکاری بجٹ سے فنڈ نہیں ملتا، اس لیے اسے آر ٹی آئ قانون یا پارلیمانی سوالات کی حدود میں نہیں لایا جا سکتا۔ اسی طرح پرائم منسٹر نیشنل ریلیف فنڈ جو ۱۹۴۸ء میں قائم کیا گیا، بھی قدرتی آفات، حادثات یا فسادات میں متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے عوامی چندوں پر مبنی فنڈ ہے۔ اس فنڈ کے بارے میں بھی حکومت کی پالیسی یہی ہے کہ چونکہ یہ براہِ راست بجٹ نہیں ہے، اس لیے پارلیمانی سوالات کے دائرہ کار کے تحت نہیں آئے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی والیکشن کمیشن ملکر پی ڈی اےکے نام کٹوار ہے‘‘

حکومت نے مزید وضاحت کی ہے کہ اگر لوک سبھا ممبران ان فنڈز کے بارے میں سوالات، نوٹس یا خصوصی بحث پیش کرتے ہیں، تو سیکریٹریٹ قواعد کے مطابق جائزہ لے گا، اور اگر وہ قابلِ قبول نہیں پائے جاتے تو انہیں منظور نہیں کیا جائے گا۔ اس حکم کا مقصد آئینی اور ضابطہ جاتی حدود کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔ یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ایم کیئرز فنڈ کی شفافیت، آڈٹ، اور پارلیمانی نگرانی کے بارے میں سوالات کافی عرصے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور شفافیت کے حق میں سرگرم افراد کے ذریعے اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف نے متعدد مرتبہ لوک سبھا میں اس فنڈ کے فنڈنگ ذرائع، خرچ اور انتظام کے بارے میں بحث کا مطالبہ کیا ہے، تاہم حکومت نے پالیسی کی قانونی تشریح کی بنیاد پر ایسے سوالات کو ضابطوں کے تحت نامناسب قرار دیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پی ایم کیئرز فنڈ کی شفافیت، آڈٹ اور عوامی رسائی کے معاملے پر عدالتوں میں بھی مختلف درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جہاں عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ فنڈ آر ٹی آئی قانون کے تحت براہِ راست نہیں آتا کیونکہ یہ عوامی چندوں پر مبنی ہے۔ تاہم یہ بحث مسلسل جاری ہے۔ حکومت کے اس مؤقف کے بعد پارلیمانی قواعد، فنڈز کی قانونی حیثیت اور شفافیت کے موضوع پر سیاسی اور قانونی مباحث مزید مضبوط ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK