• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلامقابلہ منتخب ہونے والے امیدواروں کی جیت کو چیلنج !

Updated: January 06, 2026, 12:02 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

کلیان کے ۴؍وکلاء نےالیکشن کمیشن کو مکتوب لکھ کرمطالبہ کیا ہے کہ عوام کو’نوٹا‘ کا حق دیا جائے۔

From right: Sanjay Mishra, Sonal Bhagat and Chirag Vyas. Picture: INN
دائیں سے سنجے مشرا،سونل بگت اور چراغ ویاس۔ تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے  انتخابات کے حوالے سے ایک نیا قانونی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ شہر کے معروف وکلاء نے بعض حلقوں میں امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی خبروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمشنر کو قانونی نوٹس روانہ کیا ہے۔ وکلاء کا موقف ہے کہ مقابلہ نہ ہونے کی صورت میں بھی عوام کو ’نوٹا‘کا حق دیا جانا چاہیے تاکہ ووٹرز کی رائے کا احترام برقرار رہے۔
ایڈوکیٹ سنجے مشرا، ایڈوکیٹ چراغ ویاس،سونل بگت اور وینا ترپاٹھی کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ۱۵ ؍جنوری  کو ہونے والے انتخابات کیلئے کئی وارڈوں میں صرف ایک ہی امیدوار میدان میں ہے جس کی بنیاد پر انہیں بلا مقابلہ فاتح قرار دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق دیتا ہے۔ اگر کسی وارڈ میں صرف ایک امیدوار ہو اور عوام اسے پسند نہ کرتے ہوں تو ان کے پاس اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہ صورتحال شہریوں کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔قانونی نوٹس میں الیکشن کمیشن سے پُرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے تمام وارڈ جہاں صرف ایک امیدوار ہے وہاں ای وی ایم  پر  نوٹا کا آپشن فراہم کیا جائے۔
وکلاء کے مطابق نوٹا کو ایک فرضی امیدوار تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ پولنگ کرائی جائے تاکہ عوام کو یہ انتخاب کرنے کا موقع ملے کہ وہ اس واحد امیدوار کو منتخب کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ الیکشن آفیسر اورمیونسپل کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے اس آئینی پہلو پر غور نہیں کیا اور شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا تو اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ وکلاء کی ٹیم نے اس نوٹس کی کاپیاں اسٹیٹ الیکشن کمیشن (مہاراشٹر) اور متعلقہ اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کر دی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس قانونی مطالبہ پر کیا موقف اختیار کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK