Updated: October 25, 2026, 3:02 PM IST
| Lucknow
لکھنؤ کے عدالتی احاطے میں ہائی کورٹ کے حکم پر۲۰۰؍ سے زائد غیر قانونی چیمبروں کو منہدم کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے، جس کے خلاف بڑی تعداد میں وکلاء احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ وکلاء نے روزگار اور پیشہ ورانہ امور متاثر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ چیمبر توڑنے سے پہلے ان کے بیٹھنے اور کام کرنے کیلئے متبادل انتظام کیا جائے۔
لکھنؤ انہدامی کارروائی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
عدالتی احاطے میں غیر قانونی چیمبروں پر چلا بلڈوزر، کارروائی کے خلاف سڑک پر اترے وکلاء، متبادل انتظام کا مطالبہ
ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لکھنؤ عدالتی احاطے میں غیر قانونی چیمبروں کے خلاف میونسپل کارپوریشن کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ چیمبروں کو منہدم کرنے کیلئے موقع پر بلڈوزر لگائے گئے ہیں۔ کارروائی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اور پی اے سی کے جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے خلاف بڑی تعداد میں وکلاء سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ وکلاء نے چیمبر توڑنے سے قبل متبادل انتظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کچہری احاطے میں ۲۰۰؍سے زیادہ چیمبروں کو منہدم کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔ کارروائی شروع ہونے کے بعد وکلاء میں ناراضگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیمبر ان کے کام کاج کی اہم جگہ ہیں اور انہیں ہٹائے جانے سے بڑی تعداد میں وکلاء کے سامنے روزی روٹی اور پیشے سے متعلق مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ موقع پر موجود اے سی پی مغربی دھننجے کشواہا نے بتایا کہ چیمبروں پر سرخ نشان لگائے گئے ہیں اور تمام نشان زدہ چیمبروں کو توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جتنے چیمبر ہیں، سب پر سرخ نشان لگے ہیں، سب توڑے جائیں گے۔ کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ جب تک چیمبر نہیں ٹوٹیں گے، کارروائی جاری رہے گی۔ اس کی کوئی وقت کی حد نہیں ہے۔ ۷؍ سے ۸؍ بلڈوزر لگائے گئے ہیں اور ابھی مزید بلڈوزر آ رہے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: منی پور میں مسلح گروہوں کے ساتھ امن معاہدہ خطرہ میں، کیمپوں پر کارروائی
کارروائی کی مخالفت کر رہے ایک وکیل ایس ڈبلیو نے ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ متبادل انتظام کئے بغیر چیمبر توڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے کم از کم۲۰۰۰؍وکلاء متاثر ہو رہے ہیں۔ دیوالی جیسے بڑے تہوار کے موقع پر ان کے سامنے کام کاج اور دفتر سے متعلق مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے وکلاء کے بیٹھنے اور کام کرنے کیلئے دوسری جگہ کا انتظام کیا جانا چاہئے تھا، اس کے بعد چیمبر ہٹائے جانے چاہئے تھے۔ چیمبر ٹوٹنے کے بعد وکلاء کہاں بیٹھ کر اپنے موکلوں سے ملیں گے اور وکالت کا کام کیسے کریں گے، انتظامیہ اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی ٹھوس متبادل انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو انصاف دلانے کا کام کرتے ہیں، لیکن اب اپنے مسائل کے حل کیلئے انہیں خود جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔