Inquilab Logo Happiest Places to Work

چندریان۳؍ نے لچکدار ڈیزائن کے ذریعے خلائی انجینئرنگ کا مستقبل دکھایا: ماہر

Updated: June 28, 2026, 5:10 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے چندریان۳؍ مشن کی کامیاب لینڈنگ نے عالمی خلائی برادری کو ایک اہم انجینئرنگ سبق دیا ہے۔ ماہرِ طبیعیات اور الیکٹرانکس انجینئر کے ایس منوج کے مطابق اس مشن نے ثابت کیا کہ مستقبل کے خلائی جہاز صرف قابلِ اعتماد ہی نہیں بلکہ لچکدار بھی ہونے چاہئیں۔

Chandaryaan.Photo:INN
چندریان۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے چندریان۳؍ مشن کی کامیاب  لینڈنگ نے عالمی خلائی برادری کو ایک اہم انجینئرنگ سبق دیا ہے۔ ماہرِ طبیعیات اور الیکٹرانکس انجینئر کے  ایس منوج کے مطابق اس مشن نے ثابت کیا کہ مستقبل کے خلائی جہاز صرف قابلِ اعتماد ہی نہیں بلکہ لچکدار بھی ہونے چاہئیں۔  

یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی


منوج نے اپنے مضمون ’’چندریان۳‘‘ کا سب سے بڑا سبق: ناکامی کے لیے انجینئرنگ‘‘ میں کہا کہ یہ مشن انجینئرنگ فلسفے میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے، جس نے دکھایا کہ پیچیدہ خلائی نظام ناکامیوں کو برداشت کر کے بھی اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔   انہوں نے یاد دلایا کہ لانچ سے قبل اسرو کے سابق چیئرمین ایس سومناتھ نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ وکرم لینڈر کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ کچھ ناکامیوں کے باوجود محفوظ لینڈنگ کر سکے۔ یہ یقین صرف ایک مشن پر نہیں بلکہ انجینئرنگ سوچ کے وسیع ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے۔  
چندریان۳؍ میں اپنے پیشرو کے مقابلے میں کئی بہتریاں شامل کی گئیں، جیسے زیادہ فالٹ ٹالرنس، جدید رہنمائی اور نیویگیشن الگورتھم، وسیع آپریشنل مارجن، بہتر ہنگامی منطق اور غیر معمولی حالات میں کام کرنے کی صلاحیت۔ یہ سب مل کر انجینئرنگ فلسفے کو صرف ناکامیوں کو روکنے سے آگے لے گئے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ نظام غیر متوقع حالات میں بھی فعال رہیں۔  
منوج نے وضاحت کی کہ روایتی انجینئرنگ کا مقصد ناکامیوں کو ختم کرنا ہوتا ہے، جبکہ لچکدار انجینئرنگ یہ تسلیم کرتی ہے کہ ناکامیاں ہمیشہ ٹالی نہیں جا سکتیں، اس لیے نظام کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ وہ بنیادی افعال کو محفوظ طریقے سے جاری رکھ سکیں۔ اس فلسفے کا مرکزی اصول ’’گریس فل ڈگریڈیشن‘‘ ہے، یعنی نظام مکمل ناکامی کے بجائے محدود صلاحیت کے ساتھ کام جاری رکھے۔  
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے خلائی جہاز زیادہ خودکار اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ناکامیوں کا مکمل خاتمہ عملی یا معاشی طور پر ممکن نہیں۔ اس لیے مستقبل کے مشنز کو اس طرح ڈیزائن کرنا ہوگا کہ مقامی مسائل پورے مشن کو ناکام نہ بنا سکیں۔  منوج نے زور دیا کہ چندریان۳؍ کے اسباق صرف خلائی پروگرام تک محدود نہیں بلکہ بجلی کے نظام، ہوابازی، صنعتی خودکاری، صحت کی ٹیکنالوجی اور خودکار ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں بھی اہم ہیں، جہاں ڈجیٹلائزیشن اور پیچیدگی کے باعث لچکدار انجینئرنگ ناگزیر ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:راج ببر نے ہندی کے ساتھ پنجابی فلموں میں بھی نام کمایا


انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ چندریان۳؍ نہ صرف ہندوستان کی پہلی کامیاب  لینڈنگ کے طور پر یاد رکھا جائے گا بلکہ لچکدار انجینئرنگ کی ایک تاریخی مثال کے طور پر بھی۔ سومناتھ کی قیادت میں فالٹ ٹالرنس اور گریس فل ڈگریڈیشن پر زور مستقبل کے عالمی خلائی پروگراموں کے لیے ایک ماڈل فراہم کرتا ہے۔  انسانی مشنزِ مریخ، دوبارہ استعمال ہونے والے لانچ سسٹمز اور گہرے خلائی سفر کی تیاری کے دوران، لچک کو حفاظت، اعتماد اور کارکردگی کے ساتھ انجینئرنگ کے بنیادی اصولوں میں شامل کرنا ہوگا۔ مستقبل کی خلائی تحقیق ان جہازوں کی ہوگی جو مثالی حالات میں ہی نہیں بلکہ مشکل حالات میں بھی ڈھلنے، بچنے اور کامیابی سے مشن مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK