نئی تبدیلیوں کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا، ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں سے لے کر انکم ٹیکس، بینکنگ اور ریلوے قوانین تک کئی اہم تبدیلیاں۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 10:56 AM IST | Mumbai
نئی تبدیلیوں کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا، ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں سے لے کر انکم ٹیکس، بینکنگ اور ریلوے قوانین تک کئی اہم تبدیلیاں۔
یکم اپریل ۲۰۲۶ءسے ملک بھر میں کئی بڑے مالیاتی اور روزمرہ سے وابستہ قوانین بدلنے جا رہے ہیں۔ ہر ماہ کی طرح اس بار بھی نئی تبدیلیوں کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا۔ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں سے لے کر انکم ٹیکس، بینکنگ اور ریلوے قوانین تک کئی اہم تبدیلیاں نافذ ہونے والی ہیں ۔ یکم اپریل کو بھی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایل پی جی کی قلت کے درمیان پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور اب نئے ریٹ جاری کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کے بحران کے باعث ایئر ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) اور سی این جی-پی این جی کی قیمتوں میں بھی تبدیلی ممکن ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یکم اپریل سے ملک میں انکم ٹیکس ایکٹ ۲۰۲۵ءنافذ ہوگا، جو ۱۹۶۱ءسے نافذ پرانے قانون کی جگہ لے گا۔ حکومت کے مطابق نئے قوانین کا مقصد ٹیکس سسٹم کو آسان اور جدید بنانا ہے۔ اس کے تحت آئی ٹی آر بھرنے کے لیے اب فارم ۱۶؍کی جگہ نیا فارم دیا جائے گا۔ جبکہ فارم ۱۶؍اے جو غیر تنخواہ والی آمدنی کے لیے ٹی ڈی ایس سرٹیفکیٹ ہوتا ہے، اس کا نام بدل کر فارم ۱۳۱؍کر دیا جائے گا اور اسے سہ ماہی ٹی ڈی ایس تفصیلات جاری ہونے کے ۱۵؍دن کے اندر جاری کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: اسٹاک مارکیٹس ایک بار پھر شدید گراوٹ کا شکار ،۱۸۳۶؍پوائنٹس نیچے آیا
یکم اپریل سے ایچ ڈی ایف سی بینک، پی این بی اور بندھن بینک کے صارفین کے لیے اے ٹی ایم قوانین تبدیل ہو جائیں گے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک اب اے ٹی ایم پر یو پی آئی کے ذریعے رقم نکالنے کو بھی ’فری ٹرانزیکشن لمٹ‘ میں شامل کرے گاجس سے مفت لین دین کی حد جلد ختم ہوسکتی ہے اور اس کے بعد فی ٹرانزیکشن ۲۳؍روپے کی فیس ادا کرنی پڑسکتی ہے ۔ پی این بی نے اپنے کئی ڈیبٹ کارڈس کے لیے روزانہ کیش نکالنے کی حد کم کر دی ہے۔ کچھ کارڈس پر لمٹ ایک لاکھ روپے سے گھٹا کر ۵۰؍ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پریمیم کارڈس پر لمٹ ۱ء۵؍لاکھ روپے سے کم کرکے ۷۵۰۰۰؍ روپے کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے آمدنی بڑھانے کی ضرورت: اپوزیشن
یکم اپریل سے پین کارڈ سے جڑے قوانین بھی سخت ہوسکتے ہیں۔ اب پین کارڈ کی درخواست دینے یا اسے اپ ڈیٹ کرتے وقت صرف آدھار کارڈ کافی نہیں ہوگا، بلکہ دیگر دستاویزات بھی فراہم کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ ریلوے ٹکٹ کی منسوخی کے قوانین بھی تبدیل ہونے جا رہے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت کنفرم ٹکٹ منسوخ کرنے پر زیادہ چارج ادا کرنے ہوںگے۔ ٹرین چھوٹنے سے ۸؍گھنٹے قبل کوئی ریفنڈ نہیں ملے گا، جبکہ ۸؍سے ۲۴؍گھنٹے پہلے ۵۰؍ فیصد، ۲۴؍سے ۷۲؍گھنٹے پہلے ۲۵؍ فیصد کٹوتی کے بعد ریفنڈ ملے گا اور ۷۲؍گھنٹے پہلے منسوخ کرنے پر سب سے زیادہ ریفنڈ دیا جائے گا۔