حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے چارجز نہ صرف غیر شفاف ہیں بلکہ صارفین کے حقوق اورقوانین کے بھی خلاف ہیں۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 11:56 AM IST | Mumbai
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے چارجز نہ صرف غیر شفاف ہیں بلکہ صارفین کے حقوق اورقوانین کے بھی خلاف ہیں۔
مرکزی حکومت نے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں صارفین سے ’ایل پی جی چارج‘ یا اس جیسے دیگر ناموں سےکھانے کے بل میں اضافی قیمت وصول کرنےپر سخت قدم اٹھاتے ہوئے اس پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے چارجز نہ صرف غیر شفاف ہیں بلکہ صارفین کے حقوق کے بھی خلاف ہیں، اس لئے ان پر سختی سے روک لگائی جا رہی ہے۔ صارف امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی صارف تحفظ اتھاریٹی نے ان معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جہاں ہوٹل اور ریستو ران اپنے بلوں میں ’ایل پی جی فیس‘،’گیس سرچارج‘ یا ’ایندھن لاگت‘ یا ’گیس بحران ‘جیسے اضافی چارج شامل کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’روہت پوار خود این سی پی پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں‘‘
اتھاریٹی نے اس عمل کو صارف تحفظ قانون۲۰۱۹ء کے تحت غیر منصفانہ تجارتی رویہ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق، بعض ادارے سروس چارج سے متعلق موجودہ رہنما اصولوں سے بچنے کیلئے اس طرح کے نئے ناموں سے رقم وصول کر رہے تھے جس سے صارفین کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ نئی ایڈوائزری میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی اضافی چارج خودکار یا لازمی طور پر صارفین سے وصول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: این سی پی کا ایک اور وزیر تنازع میں، نرہری زروال کا ناگفتہ بہ ویڈیو وائرل
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ قومی صارف ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات اور میڈیا رپورٹوں کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ہوٹل اور ریستوران مینو میں درج قیمت کے علاوہ بل میں الگ سے ایسے چارجز شامل کر رہے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔ مرکزی صارف تحفظ اتھاریٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایل پی جی، بجلی اور دیگر ایندھن یا آپریشنل اخراجات کسی بھی کاروبار کی بنیادی لاگت کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں اشیا ءکی قیمت میں ہی شامل کیا جانا چاہئے۔ انہیں الگ سے بطور لازمی فیس وصول کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔اتھاریٹی نے مزید واضح کیا کہ اب کوئی بھی ہوٹل یا ریستوران بل میں اس طرح کے چارجز شامل نہیں کرے گا اور مینو میں درج قیمت ہی حتمی تصور کی جائے گی، جس میں صرف قابل اطلاق ٹیکس الگ سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانہ اور دیگر قانونی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔