Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بدل جاتی

Updated: August 21, 2026, 11:50 AM IST | Agency | Nagpur

ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کا اہم فیصلہ ، پولیس اہلکارکے نام کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا جسکے مذہب کے خانے میں عیسائی درج تھا۔

Historic verdict by the Nagpur Bench of the Bombay High Court. Picture: INN
بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کا تاریخی فیصلہ۔ تصویر: آئی این این

عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ اگر کوئی ایس ٹی ؍ ایس سی برادری سے تعلق رکھنے والا شخص اپنا مذہب تبدیل کرلے خاص کر اسلام یا عیسائیت کو اپنا لے تو اسے ریزرویشن سے محروم ہونا پڑتا ہے لیکن بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے کاسٹ سرٹیفکیٹ کے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے سے کسی کی ذات نہیں بدل جاتی۔ اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ معاملے میں عرضی گزار نے عیسائی مذہب قبول کیا تھا ۔ اس لئے یہ فیصلے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۲۵؍ اسمبلی نشستوں میں ۴۰؍ فیصد سے زائد ووٹرز کے SIR فارم جمع نہیں ہوئے

اطلاع کے مطابق پولیس کانسٹیبل بپلب ناگ نے اپنا شیڈول ٹرائب (گونڈ) کاسٹ سرٹیفکیٹ بنوانے کیلئے تحصیلدار کو درخواست دی تھی تحصیلدار کے بعد جب یہ معاملہ کاسٹ ویلیڈیٹی کمیٹی تک پہنچا تو کمیٹی نے ان کے شیڈول ٹرائب  ہونے کے دعوے کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ ان کے والد کے اسکول سرٹیفکیٹ اور آمدنی کے دستاویزات میں ’عیسائی مذہب‘درج تھا۔ بپلب ناگ نے اس فیصلے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں عرضی داخل کی تھی۔ ناگ نے عدالت کے سامنے ملک کی آزادی سے پہلے یعنی ۱۹۲۶ء اور ۱۹۴۹ء کے درمیان کے محصولات کے اصل  دستاویزات پیش کئے، جن میں ان کے آباو اجداد کو واضح طور پرگونڈ برادری کے افراد کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ کاغذات کے مطالعے کے بعد بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نےاپنے اہم اور تاریخی فیصلے میں وضاحت کی کہ ’’آئین کے آرٹیکل ۳۴۲؍ کے مطابق، شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کی حیثیت پیدائش اور نسل کے لحاظ سے ہے، صرف کسی دوسرے مذہب کو اپنانے یا اس پر عمل کرنے سے متعلقہ شخص کی پیدائشی نسل اور اصل ثقافت کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘‘سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے مطابق آزادی سے پہلے کے شواہد کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ لہٰذا بنچ نے واضح کیا کہ ویلیڈیٹی کمیٹی کا اس مضبوط ثبوت کو مسترد کرنا درست نہیں ہے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے خون کی اصل اور حسب کی شناخت نہیں بدل جاتی۔ عدالت نے کاسٹ ویلیڈیٹی کمیٹی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ وہ اگلے ۴؍ ہفتوں کے اندر درخواست گزار بپلب ناگ کو گونڈ شیڈولڈ ٹرائب کے طور پر ذات کی تصدیق کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔

یہ بھی پڑھئے: میٹا نے بچوں کی حفاظت پر’’آنکھیں بند رکھنے‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے

یاد رہے کہ ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کا یہ فیصلہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ عام تاثر یہی ہے کہ ذات کا سرٹیفکیٹ اسی وقت مل سکتا ہے جب عرضی گزار ہندو ہواگر اس نے اسلام یا عیسائی مذہب کوقبول کر لیا تو اس کا ریزرویشن کا حق کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس معاملے پر زعفرانی خیمے سے تعلق رکھنے والے لیڈران بڑے پیمانےپر سیاست بھی کر چکے ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے مذہب تبدیل کیا ہے ان سے کاسٹ سرٹیفکیٹ واپس لے لیا جائے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عدالت نے مذہب تبدیل کرنے پر کاسٹ سرٹیفکیٹ نہ جاری کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہو۔ اس سے قبل ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ ہی نے ایک طالب علم کے نام کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا ۔ کاسٹ ویلیڈیٹی کمیٹی نے اسے اس بنیاد پر سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے منع کر دیا تھا کہ اس کے والد کے مذہب کے خانے میں جین لکھا ہوا تھا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK