قرآنِ کریم کو حفظ کرنا بلاشبہ ایک عظیم سعادت کے ساتھ محنت، صبر، مستقل مزاجی کا تقاضا کرنے والا مشکل کام ہے۔ بالخصوص خواتین اور بچیوں میں ماضی میں حفظِ قرآن کا رجحان نسبتاً کم دیکھنے میں آتا تھا، تاہم اب حالات تبدیل ہورہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 12:43 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
قرآنِ کریم کو حفظ کرنا بلاشبہ ایک عظیم سعادت کے ساتھ محنت، صبر، مستقل مزاجی کا تقاضا کرنے والا مشکل کام ہے۔ بالخصوص خواتین اور بچیوں میں ماضی میں حفظِ قرآن کا رجحان نسبتاً کم دیکھنے میں آتا تھا، تاہم اب حالات تبدیل ہورہے ہیں۔
قرآنِ کریم کو حفظ کرنا بلاشبہ ایک عظیم سعادت کے ساتھ محنت، صبر، مستقل مزاجی کا تقاضا کرنے والا مشکل کام ہے۔ بالخصوص خواتین اور بچیوں میں ماضی میں حفظِ قرآن کا رجحان نسبتاً کم دیکھنے میں آتا تھا، تاہم اب حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ سلیمان بلڈنگ، کوٹرگیٹ کے رہائشی شارق اسرار مومن اور ان کی اہلیہ شیرین شارق مومن کی صاحبزادیاں ثمرہ شارق مومن اور صفورہ شارق مومن نے جامعہ محمدیہ منصورہ، مالیگاؤں کے کُلّیہ عائشہ صدیقہ للبنات میں قرآنِ کریم مکمل حفظ کیا۔ دونوں بچیوں نے قاریہ زہرہ فیضی کی نگرانی اور رہنمائی میں حفظِ قرآن کا یہ مبارک سفر مکمل کیا۔
یہ بھی پڑھئے:پروفیسرڈاکٹر رخشندہ ہانی مہاراشٹر کالج کی پہلی خاتون پرنسپل مقرر
مشکل پارہ یاد ہونے پر بہت خوشی ہوتی تھی
حفظِ قرآن کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں ثمرہ اور صفورہ کا کہنا ہے کہ روزانہ سبق یاد کرنا اور پھر پچھلے سبق کو مسلسل اعادہ کرنا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ کبھی تھکن یا پڑھائی کی مصروفیات کے باعث دشواری محسوس ہوتی تھی، تاہم والدین، اساتذہ کی رہنمائی اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کے مطابق جب کوئی مشکل پارہ یا سورت مکمل یاد ہوجاتی تو بے حد خوشی محسوس ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان : ڈاکٹر نریندر دابھولکر قتل کیس کے خلاف احتجاج کے طور پر ریلی نکالی گئی
والد نے کیا کہا؟
بچیوں کو حفظِ قرآن کی طرف راغب کرنے سے متعلق والد شارق اسرار مومن کا کہنا ہے کہ ان کی ہمیشہ سے خواہش رہی کہ ان کی بیٹیاں قرآنِ کریم سے گہرا تعلق رکھیں اور اسے صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق حفظِ قرآن اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ خیال اسی خواہش سے پیدا ہوا کہ اگر بیٹیاں قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیں تو اس سے بڑھ کر خوش نصیبی کیا ہوسکتی ہے؟
والدہ کے تاثرات
والدہ شیرین شارق مومن کے مطابق ایک ماں کیلئے اس سے بڑھ کر خوشی، فخر اور شکر کی بات شاید ہی کوئی ہو کہ اس کی دونوں بیٹیاں حافظۂ قرآن بن جائیں۔انہوں نے کہا کہ جن ماؤں کے دل میں اپنی بیٹی کو حافظۂ قرآن بنانے کی خواہش ہے، وہ محبت، صبر اور حوصلے کے ساتھ اس نیک سفر کا آغاز کریں، بچوں پر صرف حفظ مکمل کرنے کا دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کے دل میں قرآن سے محبت پیدا کی جائے۔