دہشت گردی کے الزام سے بری کئے گئے شاکر انصاری کے خلاف دہلی حکومت کی عرضی پرعدالت کی ناراضگی کے بعد استغاثہ نے اپیل واپس لے لی۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 1:00 PM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
دہشت گردی کے الزام سے بری کئے گئے شاکر انصاری کے خلاف دہلی حکومت کی عرضی پرعدالت کی ناراضگی کے بعد استغاثہ نے اپیل واپس لے لی۔
مولانا انظر شاہ قاسمی کے ساتھ دہشت گردی کے سنگین الزامات سے نچلی عدالت سے باعزت بری کئے گئے دیوبند کے شاکر انصاری کے معاملہ میں حکومت کواس وقت کی منہ کی کھانی پڑی جب وہ دہلی ہائی کورٹ میں جمعیۃ علما ء ہند کی طرف سے پیش دفاعی وکیل ایم ایس خان کےاستدلال کے سامنے ٹک نہیں سکی اور استغاثہ کو مجبوری میں اپنی عرضی واپس لینی پڑی۔ہائی کورٹ نے استغاثہ کی عرضی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔دراصل دہلی سیشن عدالت سے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے کےباوجود شاکر انصاری کے خلاف استغاثہ نے ۲۰۱۷ء میں دہلی ہائی کورٹ میںعرضی داخل کرکے اس کوچیلنج کیا تھا۔اس پر متعدد بار سماعت ہوئی۔جمعیت علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے شاکر انصاری کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے استغاثہ کی عرضی پراعتراض کرتے ہوئے اس کو ناقابل سماعت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ استغاثہ نے کریمنل اپیل داخل کرنے کی بجائے کریمنل ریویژن پٹیشن داخل کی جس کی قانون میں گنجائش نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جھارکھنڈ : منتخب امیدواروں کا پروجیکٹ بھون کی طرف مارچ
ایڈوکیٹ ایم ایس خان کے اعتراض پر عدالت نے استغاثہ سے جواب طلب کیا لیکن استغاثہ عدالت کو مطمئن کرنے کی بجائےہائی کورٹ سے عرضی واپس لینے کی درخواست کی جس کو ہائی کورٹ کے جسٹس سوربھ بنرجی نے منظور کرلیااور انہوںنے اپنے فیصلے میں مولانا انظر شاہ قاسمی کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں استغاثہ نے ایسی ہی غلطی کی تھی جس کے بعد عدالت نے اس کی عرضی خارج کردی تھی۔خیا ل رہے کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتاردیوبند سے تعلق رکھنے والے شاکر انصاری کو ۹ ؍ ماہ جیل کی اذیتوں سے اس وقت راحت ملی تھی جب پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جج رتیش سنگھ نے۲۷؍ فروری ۲۰۱۷ء کو ملزم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون(یواے پی اے) کی متعدد دفعات میں ڈسچارج کردیا تھا۔