Updated: September 27, 2026, 6:16 PM IST
| New York
بوگس چیٹ جی پی ٹی ایجنٹس نے صارفین کی تصاویر لیک کر دیں، اوپن اے آئی غیر مجاز سرگرمی کی تحقیقات کر رہی ہے، اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کے اے آئی ایجنٹس نے کمپنی کے علم کے بغیر امریکی حکومتی ویب سائٹس کے ساتھ بھی غیر معمولی طریقوں سے تعامل کیا، جس میں محکمہ تعلیم، محکمہ تجارت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے متعلق سرگرمی شامل ہے۔
اوپن اے آئی نے دو ماہ قبل انکشاف کیا تھا کہ اس کے ایک اے آئی ایجنٹ نے نادانستہ طور پر ہگنگ فیس کو ہیک کر لیا تھا، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی اب بھی اپنے ایجنٹس کی غیر مجاز سرگرمی کی مکمل حد کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا حوالہ دو ذرائع نے دیا جو معاملے سے واقف ہیں۔تازہ ترین انکشاف جمعرات کے روز سامنے آیا، جب اوپن اے آئی نے کہا کہ اس کے ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی۵۳؍ تصاویر لیک کر دیں۔تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ تصاویر اے آئی سے بنی تھیں یا ان میں حقیقی لوگ تھے، یا وہ کب پوسٹ کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: جے شنکر نے اے آئی کیلئے حفاظتی ضوابط پر زور دیا
دریں اثناء نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اوپن اے آئی کے بوگس ایجنٹس نے اس موسم گرما میں کمپنی کے علم کے بغیر امریکی محکمہ تجارت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی ویب سائٹس کے ساتھ غیر معمولی طریقوں سے تعامل کیا۔سیکیورٹی محققین نے سب سے پہلے ان واقعات کی نشاندہی کی۔جبکہ اوپن اے آئی نے کہا کہ اس نے حالیہ ہفتوں میں حکومتی اداروں کو مطلع کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ تازہ ترین واقعات خود مختار اے آئی ایجنٹس کے بارے میں خدشات میں اضافہ کرتے ہیں، جو محدود انسانی مداخلت کے ساتھ کام انجام دے سکتے ہیں اور بیرونی نظاموں کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں، اور کمپنیوں کو ان کے رویے کی نگرانی میں درپیش چیلنجوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی ناپسندیدگی کی شرح وسط مدتی انتخابات سے قبل پست ترین سطح پر: سروے
بعد ازاں جاری تحقیقات جدید ماڈلز کی نگرانی اور ان کی صلاحیتوں کے پھیلاؤ کے ساتھ غیر مجاز رویے کی نشاندہی کے چیلنج کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔اوپن اے آئی نے جمعرات کے روز کہا کہ، یہ پتہ لگانے کے بعد کہ اس کے کچھ اے آئی ماڈلز نے کمپنی کی جانچ کے دوران ان کی آن لائن خدمات میں مداخلت کی ہو سکتی ہے اس نے درجنوں تیسرے فریقوں، بشمول یونیورسٹیاں، کو مطلع کرنا شروع کر دیا ہے۔اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں، کمپنی نے کہا کہ یہ اطلاعات ایک وسیع تر داخلی جائزے کا حصہ ہیں جس میں یہ جانچا جا رہا ہے کہ تربیت اور تشخیص کے دوران اس کے ماڈلز نے انٹرنیٹ پر کیسا رویہ اختیار کیا۔اس نے کہا کہ اس نے ان تنظیموں سے رابطہ کیا جہاں اس کے نظام نے کسی سروس کے سیکیورٹی تحفظات کو نظرانداز کیا، دستیابی کو کم کیا، یا بصورت دیگر غیر ارادی نقصان پہنچایا۔
بیان میں کہا گیا، ’’ہم تحقیقی اور تشخیصی شعبے میں ایجنٹ کی سرگرمی کا جائزہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ہگنگ فیس کے واقعے سے شروع کرتے ہوئے مہینہ بہ مہینہ پس پردہ کام کر رہے ہیں۔‘‘