Updated: May 04, 2026, 10:01 PM IST
| Chennai
چنئی کے سیکوریٹی گارڈ بکی نندی سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہو گئے جب انہوں نے اپنی پانچ سالہ محنت اور تنخواہ میں بتدریج اضافے کی سادہ مگر متاثر کن کہانی شیئر کی۔ ۲۰۲۱ء میں ۱۳؍ ہزار ماہانہ سے شروع ہونے والا سفر ۲۰۲۶ء تک نمایاں ترقی کی مثال بن گیا۔ ان کے ویڈیو نے صارفین کو اس لیے متاثر کیا کیونکہ اس میں دکھاوے کے بجائے حقیقت اور مستقل مزاجی نمایاں تھی، جس نے محنت اور ایمانداری کی قدر کو اجاگر کیا۔
سوشل میڈیا پر اکثر ایسی کہانیاں وائرل ہوتی ہیں جو غیر معمولی کامیابی یا لگژری طرزِ زندگی کو نمایاں کرتی ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ایک سادہ مگر حقیقی جدوجہد کی کہانی نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ چنئی سے تعلق رکھنے والے سیکوریٹی گارڈ بکی نندی نے اپنی آمدنی میں پانچ سال کے دوران ہونے والے مسلسل اضافے کو شیئر کر کے انٹرنیٹ صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ بکی نندی نے ایک انسٹاگرام ریل کے ذریعے اپنے کریئر کی ایک سادہ ٹائم لائن پیش کی، جس میں انہوں نے ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء تک اپنی ماہانہ تنخواہ میں ہونے والی تبدیلی کو دکھایا۔ اس ویڈیو کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں نہ کوئی بڑھا چڑھا کر بیان تھا اور نہ ہی کسی قسم کا متاثر کن یا مصنوعی مواد، بلکہ صرف حقیقت پر مبنی ایک سیدھی کہانی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: ریاستی حکومت کے آپلے سرکار پورٹل کی سست رفتاری سے عوام پریشان
ان کے مطابق، انہوں نے ۲۰۲۱ء میں ۱۳؍ ہزار ماہانہ تنخواہ سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ اگلے سال ۲۰۲۲ء میں ان کی آمدنی بڑھ کر ۱۵؍ ہزار ہو گئی، جو کہ ان کی محنت اور مستقل کارکردگی کا پہلا واضح نتیجہ تھا۔ ۲۰۲۳ء تک ان کی تنخواہ ۱۸؍ ہزار ماہانہ تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ مگر مسلسل ترقی کر رہے تھے۔ ویڈیو میں بکی نندی کو اپنی سیکوریٹی گارڈ کی وردی میں مختلف مقامات پر کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں بلکہ اپنے سفر کے مختلف مراحل کو بھی بصری انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ سادگی اور حقیقت پسندی ہی تھی جس نے اس ویڈیو کو دیگر وائرل مواد سے مختلف بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نندوربار: نواپور میں برڈ فلوکا خوف، چکن اور انڈے کی فروخت پر پابندی
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر مثبت ردعمل دیا اور اسے ایک متاثر کن مثال قرار دیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ نندی کی کہانی ان کے لیے زیادہ قابلِ فہم اور حقیقی ہے کیونکہ یہ عام لوگوں کی زندگی سے قریب تر ہے۔ کچھ صارفین نے یہاں تک تبصرہ کیا کہ اس طرح کی مستقل ترقی بعض کارپوریٹ ملازمتوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کہانیاں نوجوانوں اور عام محنت کش طبقے کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ یہ پیغام دیتی ہیں کہ کامیابی ہمیشہ تیزی سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا پر اکثر غیر حقیقی معیار پیش کیے جاتے ہیں، بکی نندی کی یہ سادہ کہانی ایک متوازن اور حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔