اداکار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دو کروڑ روپے جمع کرانے کی شرط کے تحت ایک کروڑ۱۵؍ لاکھ روپے کا انتظام کیا جاچکا ہے جبکہ باقی رقم ایک زمین کے خریدار سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi
اداکار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دو کروڑ روپے جمع کرانے کی شرط کے تحت ایک کروڑ۱۵؍ لاکھ روپے کا انتظام کیا جاچکا ہے جبکہ باقی رقم ایک زمین کے خریدار سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
چیک باؤنس کے سات مقدمات میں سزا کا سامنا کرنے والے معروف اداکار راجپال یادو کو سپریم کورٹ نے باقی ۸۵؍لاکھ روپے جمع کرانے کے لیے ۱۳؍ اکتوبر تک کی مہلت دے دی ہے۔ اداکار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دو کروڑ روپے جمع کرانے کی شرط کے تحت ایک کروڑ۱۵؍ لاکھ روپے کا انتظام کیا جاچکا ہے جبکہ باقی رقم ایک زمین کے خریدار سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت ، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے راجپال یادو کی درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت اداکار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی آبائی زمین کا ایک خریدار موجود ہے جو ۸۵؍ لاکھ روپے ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زمین کے خریدار اور راجپال یادو دونوں عدالت میں موجود ہیں، تاہم زمین کی رجسٹری کے عمل میں فی الحال کچھ رکاوٹیں ہیں۔ وکیل کے مطابق پِتر پکش کا عرصہ جاری ہونے کی وجہ سے خریدار فی الوقت فروخت کے دستاویزات کی رجسٹریشن نہیں کرانا چاہتا اور نورتری شروع ہونے کے بعد رجسٹری کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم خریدار نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ رجسٹری مکمل ہونے سے قبل بھی وہ ۸۵؍لاکھ روپے بطور پیشگی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس طرح راجپال یادو کی جانب سے عدالت کی مقرر کردہ دو کروڑ روپے کی رقم مکمل کی جاسکتی ہے۔ وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رجسٹری کی ضرورت کے مطابق رقم ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے بھی جمع کرائی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ابھیشیک بچن کا انکشاف: شاہ رخ خان نے میرے کریئر کی ’ذاتی ذمہ داری‘ لی
راجپال یادو کے وکیل کی دلیل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے باقی ۸۵؍ لاکھ روپے آر ٹی جی ایس کے ذریعے جمع کرانے کے لیے۱۳؍اکتوبر تک کا وقت دیا۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ سپریم کورٹ اس سے قبل راجپال یادو کو دو کروڑ روپے جمع کرانے کا آخری موقع دے چکی ہے۔ عدالت نے گزشتہ سماعتوں کے دوران رقم کی ادائیگی میں تاخیر اور عدالتی احکامات کی مکمل تعمیل نہ ہونے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
راجپال یادو کے خلاف یہ قانونی تنازع مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق سات چیک باؤنس مقدمات سے جڑا ہوا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان مقدمات میں اداکار کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ہر مقدمے میں تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے تمام سزاؤں کو بیک وقت چلانے کا حکم دیا تھا۔راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادو نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اسی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے معاملے میں نوٹس جاری کیا اور اداکار کو رقم جمع کرانے کا ایک اور موقع دیا۔
اس پورے معاملے کی جڑ تقریباً ۱۶؍سال پرانے مالی تنازع میں ہے۔ سال ۲۰۱۰ءمیں راجپال یادو نے بطور ہدایت کار اپنی فلم’’اتا پتا لاپتا‘‘ بنانے کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً ۵؍ کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ایک اور یادگار شاہکار کے بعد میسی نے آنسوؤں کے ساتھ ارجنٹائنا کو الوداع کہہ دیا
یہ فلم ۲۰۱۲ء میں ریلیز ہوئی، لیکن باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوسکی۔ فلم کی ناکامی کے بعد راجپال یادو کے لیے قرض کی رقم واپس کرنا مشکل ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر واجبات شامل ہوتے گئے اور یہ مالی تنازع بڑھ کر تقریباً ۹؍کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے راجپال یادو کی جانب سے دیے گئے چیک باؤنس ہونے کے بعد مرلی پروجیکٹس نے قانونی کارروائی شروع کی۔ مقدمہ مختلف عدالتی مراحل سے گزرتا ہوا دہلی ہائی کورٹ تک پہنچا۔۲۰۱۸ء میں مجسٹریٹ عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادو کو قصوروار قرار دیا۔ بعد ازاں معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچا اور دہلی ہائی کورٹ نے بھی ساتوں مقدمات میں راجپال یادو کی سزا برقرار رکھی۔ ہر کیس میں تین ماہ کی قید کی سزا سنانے کے ساتھ شکایت کنندگان کو رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ اب سپریم کورٹ کی جانب سے راجپال یادو کو باقی ۸۵؍ لاکھ روپے ۱۳؍ اکتوبر تک جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔ آئندہ سماعت میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ مقررہ رقم جمع ہوئی یا نہیں اور مقدمے میں مزید کیا قانونی پیش رفت ہوتی ہے۔