• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپوزیشن کے سپریم کورٹ مارچ سے قبل راہل گاندھی کا دعویٰ، گیانیش کمار رابطے میں ہیں

Updated: October 12, 2026, 3:33 PM IST | New Delhi

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ان کے رابطے میں ہیں۔ انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف انڈیا بلاک کے سپریم کورٹ مارچ سے قبل انہوں نے گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ادھر مارچ کے پیش نظر وسطی دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور ۶؍ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی دروازے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

Rahul Gandhi and Gyanesh Kumar. Photo: INN
راہل گاندھی اور گیانیش کمار۔ تصویر: آئی این این

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیر کو سپریم کورٹ کی جانب انڈیا بلاک کے مجوزہ مارچ سے قبل دعویٰ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ان کے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمشنر سے اپیل کی کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان لوگوں کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں جن کے دباؤ میں فیصلے کیے گئے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈروں کو حراست میں لینے کی وجہ انتخابی بے ضابطگیوں پر جواب طلب کرنا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ الزامات کے باوجود گیانیش کمار اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، تقریباً ۲۰۰؍ سرکاری افسران اپوزیشن سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ اور انتخابی نظام کو منصفانہ بنانے تک تحریک جاری رہے گی۔ راہل گاندھی نے عوام سے مارچ کی حمایت کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ جو لوگ ذاتی طور پر شامل نہیں ہوسکتے، وہ بھی آئینی حقوق کے حق میں آواز اٹھائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج میں شامل خواتین پر پولیس نے تشدد کیا، جس سے نوجوانوں اور ان کے اہلِ خانہ میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے پولیس کارروائیوں کی تائید کرنے والے صحافیوں کی تعداد کے بارے میں بھی سوال کیا۔

یہ بھی پڑھئے: پونے : ایم پی ایس سی احتجاج میں شدت لانے کا روہت پوار کا انتباہ

انڈیا بلاک کے مارچ کا مقصد

راہل گاندھی نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں، ذاتوں، طبقات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ سپریم کورٹ تک مارچ کریں گے اور چیف جسٹس کو میمورنڈم پیش کریں گے۔ ان کے مطالبات میں مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ روکنا، ووٹر فہرستوں پر خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) بند کرنا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ شامل ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی عوام سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔

چیف جسٹس نے ملاقات سے انکار کردیا

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے اپوزیشن کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر سے متعلق معاملات پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔ آئین عدالت کو انتظامی طریقے سے ایسی شکایات سننے کی اجازت نہیں دیتا، تاہم آئین کی دفعہ ۳۲؍ کے تحت عدالتی نظرثانی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو عرضی داخل ہونے پر منگل کو سماعت کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اکولہ : ۴؍ منزلہ عمارت منہدم، ملبہ تلے دبی ۴؍لڑکیوں کو بچالیا گیا

سی جے پی نے احتجاج کی اجازت مانگی

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈروں نے پیر کی صبح پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچ کر جنتر منتر پر پُرامن مظاہرے کی اجازت طلب کی۔ پارٹی نے دہلی پولیس کو تاریخ کی تصدیق کے لیے ۲۴؍ گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

کیرالا اسمبلی میں قرارداد

کیرالا کی کانگریس قیادت والی حکومت پیر کو اسمبلی میں قرارداد پیش کرے گی، جس میں گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے، ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے اہل ووٹروں کے حقوق بحال کرنے اور ایس آئی آر کی خامیوں کو درست کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ قرارداد میں الیکشن کمشنروں کے انتخابی پینل میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف اور چیف جسٹس کو شامل کرنے کی تجویز بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں کارپوریٹر کی کمر پر پستول!

دہلی میں میٹرو اور ٹریفک پابندیاں

اطلاعات کے مطابق مارچ کے پیش نظر وسطی دہلی میں سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ۱۲؍ اکتوبر کو صبح ۶؍ بجے سے شام ۴؍ بجے تک پٹیل چوک، جن پتھ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، سینٹرل سیکریٹریٹ اور بارہ کھمبا روڈ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند رہیں گے، تاہم انٹرچینج کی سہولت دستیاب ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK