• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۵۶؍ دن کی کوشش رنگ لائی؟ مایا گپتا اور مسٹر بیسٹ کی ملاقات

Updated: October 12, 2026, 7:03 PM IST | Surat

گجرات کے شہر سورت سے تعلق رکھنے والی مایا گپتا نے ایک سال تک سوشل میڈیا پر مسٹر بیسٹ سے ملاقات کی مہم چلائی؛ انڈین ایکسپریس کے مطابق، چیلنج کے آخری دن ملاقات ہوئی اور فلاحی کاموں کے لیے ۱۰؍ ہزار ڈالر ملے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ابھی واضح نہیں۔

Photo: Social media
تصویر: سوشل میڈیا

ہندوستانی سوشل میڈیا کریئیٹر مایا گپتا کی ایک سال پر محیط مہم اس وقت توجہ کا مرکز بن گئی جب انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ وہ اپنے ۳۶۵؍ روزہ چیلنج کے آخری دن عالمی شہرت یافتہ یوٹیوبر مسٹر بیسٹ، جن کا اصل نام جیمز اسٹیفن ڈونالڈسن ہے، سے ملنے میں کامیاب ہوگئیں۔ رپورٹ کے مطابق، مایا کو اپنی کمیونٹی کے لیے فلاحی کام جاری رکھنے کی غرض سے ۱۰؍ ہزار ڈالر بھی دیے گئے۔ تاہم، ایک دوسری رپورٹ میں اس ملاقات اور رقم کی آزادانہ تصدیق باقی ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، اس لیے عطیے کی تفصیلات کو فی الحال احتیاط کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ مایا نے اپنی مہم سورت، گجرات سے شروع کی تھی۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس چیلنج کو ۳۶۵؍ دن تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا، جس کے دوران وہ مسلسل اپنی پیش رفت شیئر کرتی رہیں اور مسٹر بیسٹ کو اپنی پوسٹس میں ٹیگ کرتی تھیں۔ ان کی مہم کا بنیادی مقصد ان سے ملاقات کرنا تھا، جبکہ ضرورت مند افراد کو کھانا فراہم کرنے اور کمیونٹی کی مدد کرنے کی سرگرمیاں بھی اس سفر کا حصہ تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی روزانہ کی پوسٹس نے ایسے صارفین کی توجہ حاصل کی جو ان کے چیلنج کے اختتام کا انتظار کررہے تھے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by MrBeast (@mrbeast)

مایا کی مہم میں روزانہ دن گننا ایک نمایاں عنصر تھا۔ ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ۲۹؍ اگست ۲۰۲۶ء کی پوسٹ میں چیلنج کے ۳۶۱؍ ویں دن کا ذکر تھا، یعنی مقررہ مدت پوری ہونے میں صرف ۴؍ دن باقی تھے۔ اس مرحلے تک ان کی کوشش محض کسی مشہور شخصیت سے ملاقات کی خواہش نہیں رہی تھی، بلکہ ان کے آن لائن پیروکار بھی اس مہم کی پیش رفت میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ ان کی پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پورے سال اس ہدف کو اپنی آن لائن شناخت کا مرکزی حصہ بنائے رکھا۔ انڈین ایکسپریس کی ۱۲؍ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، مایا بالآخر چیلنج کے ۳۶۵؍ ویں دن مسٹر بیسٹ سے ملیں اور انہیں فلاحی سرگرمیوں کے لیے ۱۰؍ ہزار ڈالر دینے کی اطلاع سامنے آئی۔ اخبار نے اس رقم کو تقریباً ۵۷ء۹؍ لاکھ ہندوستانی روپے کے برابر بتایا، تاہم ڈالر کی شرحِ تبادلہ کے باعث رقم کا ہندوستانی روپوں میں درست تخمینہ وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے۔ دوسری جانب، آج تک کی رپورٹ نے واضح کیا کہ ملاقات اور عطیے کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ رقم کی منتقلی کی تمام تفصیلات آزاد ذرائع سے ثابت ہوچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح

مسٹر بیسٹ اپنے یوٹیوب چینل پر بڑے انعامات، غیر معمولی چیلنجز اور فلاحی سرگرمیوں پر مبنی ویڈیوز کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا مواد اکثر مقابلوں، نقد انعامات اور ضرورت مند افراد کی مدد کے گرد گھومتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں ان کی بڑی ناظرین برادری قائم ہوئی ہے۔ مایا کی مہم بھی اسی ڈجیٹل ماحول میں پروان چڑھی، جہاں کسی معروف تخلیق کار کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل پوسٹس، عوامی حمایت اور وائرل مواد اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مایا کے معاملے میں نمایاں بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی خواہش کو ایک مقررہ مدت والے عوامی چیلنج میں تبدیل کیا اور اس سفر کو سوشل میڈیا پر دستاویزی شکل دی۔ تاہم، ان کی کہانی کا فلاحی پہلو—یعنی ضرورت مندوں کے لیے خوراک اور کمیونٹی کی مدد—ملاقات کے دعوے سے الگ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ عطیے کی رقم اور ملاقات کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ اس مہم کا عملی نتیجہ کیا رہا اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے کتنی رقم حقیقتاً فراہم کی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK