Updated: July 23, 2026, 6:06 PM IST
| Mumbai
اداکار، راجیہ سبھا رکن اور مکل نیدھی میئم (MNM) کے سربراہ کمل ہاسن نے جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بچوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب ملک کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا، طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور سماجی کارکن سونم وانگچک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔
کمل ہاسن۔ تصویر:آئی این این
اداکار، سیاست داں اور راجیہ سبھا کے رکن کمل ہاسن نے ملک میں جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کو پہلے ہی سن لیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہ ہونے کے باعث صورتحال سنگین ہو گئی۔ کمل ہاسن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’ہمیں اس وقت سن لینا چاہیے تھا جب ایک بچہ رو رہا تھا، لیکن ہم نے اس وقت تک انتظار کیا جب بہت سے بچے اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ایسا نظام جہاں کوچنگ، تعلیم کی جگہ لے لے، بے چینی، تجسس کی جگہ لے لے اور جرم، میرٹ کی جگہ لے لے، وہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ ایک قوم اس وقت ناکام ہو جاتی ہے جب اس کے بچوں کا استقبال جوابوں کے بجائے رکاوٹوں اور لاٹھیوں سے کیا جائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ میں کون سا اداکار کون سا کردار ادا کرے گا؟
انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان کے بچوں، تم ہم سب میں سب سے بہتر ہو۔ تم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ملک تمہارے لیے اپنا فرض ادا کرے۔ میری دعا ہے کہ تمہارے خواب ہمیشہ ہماری ناکامیوں سے بڑے رہیں۔‘‘ کمل ہاسن نے اپنی پوسٹ میں #CJPProtest کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا اور احتجاج میں شریک طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کمل ہاسن نے اپنے بیان میں سماجی کارکن سونم وانگچک کا بھی ذکر کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ اپنی جاری بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ملک کو آنے والے دنوں میں بھی آپ کے ضمیر اور رہنمائی کی ضرورت ہوگی، اس لیے براہِ کرم اپنا روزہ ختم کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:یوتھ ٹیسٹ: ہندوستان نے سری لنکا کو ۲۱۱؍ رنز سے شکست دے دی
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف شہروں، جن میں دہلی، ممبئی، بنگلورو، چنئی، حیدرآباد اور پٹنہ شامل ہیں، طلبہ احتجاج کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند روز میں فلمی دنیا کی متعدد شخصیات بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں سامنے آئی ہیں اور تعلیمی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کمل ہاسن کے بیان کو سوشل میڈیا پر وسیع توجہ ملی، جہاں متعدد صارفین نے اسے طلبہ کے حق میں ایک مضبوط آواز قرار دیا، جبکہ بعض نے تعلیمی اصلاحات پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ خبر لکھے جانے تک حکومت کی جانب سے کمل ہاسن کے اس مخصوص بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔