Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: حیران کن مصنوعی سورج: ۵۸۲؍ ٹن، ۱۵۰؍ ملین ڈگری، ۶۰؍ سال

Updated: July 30, 2026, 12:02 PM IST | Beijing

چین نے اپنے اگلی نسل کے ’’مصنوعی سورج‘‘ (Fusion Reactor) پروگرام کے لیے دنیا کا سب سے بڑا ۵۸۲؍ ٹن وزنی سپر کنڈکٹنگ ٹورائیڈل فیلڈ مقناطیس تیار اور کامیابی سے آزمائش کے بعد منظور کر لیا ہے۔ ۲۱؍ میٹر طویل اس مقناطیس کو تقریباً چھ سال میں مکمل کیا گیا، جو ۱۵۰؍ ملین ڈگری سیلسیس تک گرم پلازما کو قابو میں رکھنے، ۶۰؍ سال تک قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرنے اور مستقبل میں صاف، تقریباً لامحدود توانائی پیدا کرنے کے چینی منصوبے کا بنیادی حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

چین نے جوہری فیوژن (Nuclear Fusion) کے میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنے اگلی نسل کے ’’مصنوعی سورج‘‘ منصوبے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ فیوژن مقناطیس مکمل کر لیا ہے۔ یہ ۵۸۲؍ ٹن وزنی، ۲۱؍ میٹر طویل اور ۱۲؍ میٹر چوڑا ٹورائیڈل فیلڈ سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ہے، جسے چین کی انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس (ASIPP) نے چینی اکیڈمی آف سائنسز کے تحت مکمل طور پر ملکی ٹیکنالوجی سے تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے پیچھے بنیادی مقصد ایسا جوہری فیوژن ری ایکٹر تیار کرنا ہے جو سورج میں ہونے والے توانائی پیدا کرنے کے قدرتی عمل کو زمین پر دہرا سکے۔ فیوژن ری ایکٹر میں ہائیڈروجن کے ایٹم انتہائی بلند درجہ حرارت پر آپس میں مل کر بے پناہ توانائی خارج کرتے ہیں، مگر اس عمل کے لیے پلازما کو ری ایکٹر کی دیواروں سے دور رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی کام یہ دیو ہیکل مقناطیس انجام دیتا ہے، جو انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کر کے۱۵۰؍ ملین ڈگری سیلسیس تک گرم پلازما کو اپنے اندر قید رکھتا ہے۔ یہ درجہ حرارت سورج کے مرکز کے درجہ حرارت سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ 
اس مقناطیس کی تیاری میں تقریباً چھ سال لگے۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اس دوران ۴۷؍ پیٹنٹس حاصل کیے گئے اور ۲۵؍ صنعتی معیارات وضع کیے گئے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والے تمام اہم مواد، پرزے اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی مقامی طور پر تیار کی گئی، جس سے حساس فیوژن ٹیکنالوجی میں بیرونی انحصار تقریباً ختم ہو گیا۔ اس منصوبے کی ایک اور حیران کن خصوصیت اس کی ۶۰؍ سالہ متوقع آپریشنل زندگی ہے۔ انجینئروں کے مطابق مقناطیس کو تقریباً منفی ۲۶۹؍ ڈگری سیلسیس کے انتہائی کم درجہ حرارت پر مسلسل کام کرنا ہوگا، جبکہ اسے نہایت زیادہ برقی رو، شدید تابکاری اور زبردست میکانی دباؤ بھی برداشت کرنا ہوگا۔ اسی مقصد کے لیے اس کے برقی جوڑوں کی مزاحمت تقریباً صفر تک محدود کی گئی ہے تاکہ ایک لاکھ ایمپیئر سے زیادہ برقی رو انتہائی کم توانائی کے ضیاع کے ساتھ گزر سکے۔ 
یہ مقناطیس چین کے مجوزہ BEST (Burning Plasma Experimental Superconducting Tokamak) منصوبے کا بنیادی جزو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس دانوں نے ایک ہائی ٹیمپریچر سپر کنڈکٹنگ سینٹرل سولینائڈ کوائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا، جسے فیوژن ری ایکٹر کا ’’دل‘‘ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہی جزو پلازما کو شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کامیابی چین کے پہلے سے جاری EAST (Experimental Advanced Superconducting Tokamak) پروگرام کی توسیع بھی سمجھی جا رہی ہے۔ رواں سال EAST نے ۱۰۰؍ ملین ڈگری سیلسیس پر پلازما کو ۱۰۶۶؍  سیکنڈ تک برقرار رکھ کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے فیوژن توانائی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ 
چین نے فیوژن توانائی کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ حکام کے مطابق BEST ری ایکٹر ۲۰۲۷ء کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ ۲۰۳۰ء کے آس پاس پہلی مرتبہ فیوژن سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد China Fusion Engineering Demonstration Reactor قائم کیا جائے گا، جسے دنیا کا پہلا تجارتی نوعیت کا فیوژن پاور اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، تاہم تجارتی پیمانے پر فیوژن توانائی کی پیداوار تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی تکنیکی مراحل باقی ہیں۔ مکمل ری ایکٹر کی تنصیب، طویل مدتی آزمائش اور یہ ثابت کرنا کہ نظام اپنی استعمال شدہ توانائی سے زیادہ توانائی پیدا کر سکتا ہے، آئندہ برسوں کے سب سے بڑے چیلنجز ہوں گے۔ اس کے باوجود سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ہر نئی کامیابی دنیا کو تقریباً لامحدود، محفوظ اور کاربن سے پاک توانائی کے خواب کے مزید قریب لے جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK