گوونڈی کے وکیل نے رجسٹرار جنرل، حکومت مہاراشٹر، بی ایم سی اور کریٹ سومیا کو نوٹس بھیجا، کہا ہےکہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا جانا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضی داخل کرنے کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 12:45 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
گوونڈی کے وکیل نے رجسٹرار جنرل، حکومت مہاراشٹر، بی ایم سی اور کریٹ سومیا کو نوٹس بھیجا، کہا ہےکہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کیا جانا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضی داخل کرنے کا اعلان کیا۔
گو ونڈی میں رہائش پزیر وکیل جو سماجی رضاکار بھی ہے ،نے رجسٹرار جنرل آف انڈیا، حکومت مہاراشٹر، بی ایم سی کمشنر اور بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو نوٹس بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر جو روک لگائی گئی ہے، اسے ۱۵؍ دن میں ختم کیا جائے ورنہ وہ اس تعلق سے مفادعامہ کی عرضداشت داخل کریں گے۔
گوونڈی کے ایڈوکیٹ فیاض عالم شیخ نے نوٹس میں کہا ہے کہ عام شہریوں، طلبہ، پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے درخواست دینے والوں اور برتھ یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہ ملنے کے سبب اہل خانہ کی پریشانیاں سننے کے بعد انہوں نے ان سب کی طرف سے یہ نوٹس بھیجا ہے۔ان کے مطابق برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں تصحیح اور نئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے سلسلے میں سیاسی دباؤ میں آکر قانونی دائرہ سے باہر نکلتے ہوئے جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان سے آئین کے آرٹیکل ۱۴؍ اور ۲۱؍ میں شہریوں کو دیئے گئے بنیادی حقوق، ’رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ ایکٹ ۱۹۶۹ء‘ اور ’رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ رُولز ۲۰۰۰ء‘ کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ کریٹ سومیا نے انتظامیہ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میڈیا کے سامنے ڈراما کیا اور عوام میں خوف کا ماحول پیدا کرکے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے افسران، سب رجسٹرار اور دیگر متعلقہ افسران کو خوفزدہ کرکے بغیر اعلان کا کام بند کروادیا ہے جس کی وجہ سے متعلقہ افسران مستحق افراد کے قانونی طور پر جائز دستاویز کو بھی منظوری دینے سے گھبرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کریٹ سومیا کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے کہ وہ سرکاری افسران کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کریں۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے سول سپر اسپیشلیٹی اسپتال کا کام تیزی سے مکمل کیا جائے: ایکناتھ شندے
اس میں مغربی بنگال، اتر پردیش (رائے بریلی) اور دہلی کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تفتیش کے زیر التواء ہونے کا جواز پیش کرکے سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنا نہ صرف انتظامی طور پر ناقابل قبول ہے بلکہ یہ انتظامیہ کا مذاق اڑانے جیسا ہے اور متذکرہ ریاستوں نے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے اس سے زیادہ سنگین مسائل کو انتہائی پختگی کے ساتھ حل کیا ہے۔مغربی بنگال کے تعلق سے اس میں کہا گیا ہے کہ جب تمام میونسپل دفاتر میں جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ کا معاملہ سامنے آیا تو وہاں کی حکومت نے منظوری دینے کے تمام حقوق کیلئے مرکزی سسٹم نافذ کردیا اور نامزد ’سب ڈویژنل افسر‘ کو منظوری کا حق دے دیا، سیاسی مداخلت بند کردی اور متعینہ وقت میں کام کرنے والا فاسٹ ٹریک ڈیسک قائم کردیا۔ اس طرح مستحق افراد کی التواء میں پڑی درخواستیں ۱۵؍ دن میں انجام کو پہنچ گئیں۔اسی طرح اترپردیش میں جب ۵۲؍ ہزار جعلی سرٹیفکیٹ کا معاملہ سامنے آیا تو وہاں ’اسپیشل ری ڈریسل پورٹل‘ قائم کیا گیا جس سے شہریوں کی جائز درخواستوں پر سرٹیفکیٹ جاری کردیئے گئے۔اسی طرح دہلی میں بھی اسپتال کے ریکارڈ سے تصدیق کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کردیئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: تمام اسکولوں میں چاکلیٹ، چپس اور کولڈ ڈرنک پر پابندی
اس کے مقابلے ممبئی میں عوام اور طلبہ تعلیم، کریئر میں ترقی، پاسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے آزادی کے ساتھ کسی بھی مقام کا سفر کرنے اور دیگر اہم کاموں سے محروم ہوگئے ہیںاور یہ تمام باتیں آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے علاحدہ نہیں کی جاسکتیں۔ اس میں مدراس، گجرات اور کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان عدالتوں نے کہا ہے کہ ۳۰؍ سے ۴۵؍ دن میں شہری رجسٹروں میں تصحیح نہ کرنا آئین میں دیئے گئے حقوق کی خلاف ورزی اور ریاستی حکومت کی من مانی بے عملی ہے۔
نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ۱۵؍ دن میں اس مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا تو اس تعلق سے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی جائے گی۔