Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو اے ای اور قطر کی ٹرمپ پر ایران حملے محدود کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کی اپیل

Updated: March 03, 2026, 9:30 PM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر متحدہ عرب امارات اور قطر سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ کا دورانیہ محدود کرنے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

بلومبرگ نے پیر کو اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات اور قطر خفیہ طور پر اپنے اتحادیوں سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی مدت محدود رکھنے پر آمادہ کریں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک وسیع سفارتی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ تنازع کا جلد از جلد سفارتی حل نکالا جا سکے۔ اس اقدام کے پیچھے بنیادی خدشہ خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ اور توانائی کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافے کا ہے۔ قطر کے ایک جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر خطے میں بحری گزرگاہیں اس ہفتے کے وسط کے بعد تک متاثر رہیں تو قدرتی گیس کی منڈی میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ یہ مہم چار سے پانچ ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے، تاہم، ضرورت پڑنے پر اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کارروائیاں ’طے شدہ شیڈول سے آگے‘ بڑھ رہی ہیں، تاہم کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ 
ادھر رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے درمیانی فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کیلئے اتحادیوں سے مدد طلب کی ہے جبکہ قطر خاص طور پر ڈرون حملوں سے نمٹنے کیلئے تعاون چاہتا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق قطر کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اندرونی تجزیے کے مطابق موجودہ استعمال کی رفتار سے اس کا ذخیرہ صرف چار دن تک کافی ہے۔ قطر نے پیر کو بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے سات بیلسٹک میزائل اور پانچ ڈرون تباہ کئے اور خلیجی ریاست کی جانب بڑھنے والے دو ایس یو-۲۴؍ طیارے بھی مار گرائے۔ ایران خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم کے جواب میں ہے جو سنیچر کو شروع ہوئی تھی اور جس میں ایران کے کئی اعلیٰ عہدیدار، بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ہلاک ہو گئے۔ متحدہ عرب امارات اور قطر کے حکام نے بلومبرگ کی رپورٹ پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ 
ایران پر امریکی اسرائیل حملے سے ہلاکتوں کی تعداد۷۸۷؍ ہو گئی ہے: ایرانی ہلال احمر
ایرانی ہلال احمر کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر۷۸۷؍ ہو گئی ہے۔ پیر کو یہ تعداد۵۵۵؍ بتائی گئی تھی۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں ایران کے۱۵۳؍ شہروں اور۵۰۰؍ سے زائد مقامات پر ایک ہزار سے زیادہ حملے کئے گئے۔ میناب شہر کے ایک گرلز اسکول پر سنیچر کو حملہ ہوا جس میں ایرانی میڈیا کے مطابق۱۶۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ پیر کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی افواج ’جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائیں گی‘ اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔ منگل کو ایران نے میناب میں ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے کہا کہ تعلیم کیلئے مخصوص مقام پر طلبہ کا قتل بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسکولوں کو حاصل تحفظ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
امریکی فوج نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی کمانڈ و کنٹرول تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فوجی ہوائی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے بھی کہا کہ وہ تہران اور بیروت میں فوجی اہداف پر بیک وقت حملے کر رہی ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادیوں نے بھی جوابی کارروائیاں کیں اور اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ بی بی سی کے مطابق اتوار کو کویت میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ابتدا میں تین ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں ملبے سے مزید دو لاشیں ملنے اور ایک زخمی فوجی کے انتقال کے بعد تعداد بڑھا دی گئی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی کے دوران ایک ’طاقتور ہتھیار‘ نے مضبوط دفاعی نظام کو چکمہ دیتے ہوئے ایک ٹیکٹیکل آپریشن سینٹر کو نشانہ بنایا۔ کویت میں ۱۳؍ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔ تازہ کشیدگی کے دوران تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے منگل کو ایران میں موجود ہندوستانی طلبہ اور شہریوں کیلئے نئی ہدایات جاری کیں۔ سفارت خانے نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں، زیادہ سے زیادہ گھروں کے اندر رہیں، کھڑکیوں سے دور رہیں، ہر وقت احتیاط برتیں، احتجاجی مقامات سے دور رہیں اور سفارت خانے سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ 

بیجنگ تہران رابطہ
وانگ یی نے عباس عراقچی سے فون پر گفتگو میں کہا کہ چین ’’ایران کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘ چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق بیجنگ ایران کے ’’جائز اور قانونی حقوق و مفادات‘‘ کی حمایت جاری رکھے گا۔ وانگ نے امریکہ اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی اور کشیدگی کو خطے تک پھیلنے سے روکنے کی اپیل کی، اور کہا کہ موجودہ پیچیدہ صورتحال میں استحکام اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ حالیہ حملوں کے بعد بیجنگ اور تہران کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

یورپ اور خلیج سے سفارتی بات چیت
جین نویل بیروت اور بدر ابو سعیدی سے الگ الگ گفتگو میں وانگ نے زور دیا کہ ممالک ’’فوجی برتری کو من مانی حملوں کے لیے استعمال نہ کریں‘‘ اور سفارت کاری کی طرف واپسی کریں۔ مسقط کی ثالثی میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے انہوں نے جلد از جلد جنگ بندی کی حمایت کی۔

خلیج میں حفاظتی اقدامات
کویت میں امریکی سفارتخانے نے علاقائی کشیدگی کے باعث مزید نوٹس تک بند رہنے کا اعلان کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سے دستیاب تجارتی پروازوں کے ذریعے روانگی کا مشورہ دیا۔ قطر اور سعودی عرب نے ایرانی ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی، جبکہ توانائی تنصیبات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: اگر ضرورت پڑی تو ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی بھی ممکن: ٹرمپ

روس کی وارننگ اور جنگ بندی کی اپیل
دمتری میدیدوف نے مغرب کو خبردار کیا کہ کشیدگی عالمی سطح پر پھیل سکتی ہے، جبکہ ماسکو نے حملوں کو ’’خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت‘‘ قرار دے کر فوری سفارت کاری کا مطالبہ کیا۔ ولادیمیر پوتن اور محمد بن زائد النہیان کی گفتگو میں بھی جنگ بندی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروف نے شہری اہداف پر حملوں کی مذمت کی اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

عسکری پیش رفت اور ردعمل
واشنگٹن نے ایران کے خلاف اپنی کارروائی کو ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ اہداف کے حصول تک کارروائی جاری رہے گی۔ تہران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آپریشن جاری رہ سکتا ہے، جبکہ خطے میں توانائی کی سپلائی اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

امریکہ نے اسرائیل کو بچانے کیلئے دیگر خلیجی ممالک کے دفاع سے توجہ ہٹالی ہے: سینئر سعودی اہلکار
سعودی تجزیہ کار سلیمان العقیلی نے خبردار کیا کہ خلیجی ریاستیں ممکنہ میزائل و ڈرون حملوں کے خطرات سے دوچار ہیں اور توانائی تنصیبات کو خاص تحفظ درکار ہے۔ ایسے میں امریکہ نے اپنی پوری توجہ اسرائیل کی طرف موڑ دی ہے اور ہمیں یونہی چھوڑ دیا ہے۔ اس درمیان سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے کئی ماہ تک ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا

مجموعی منظرنامہ
موجودہ بحران نے سفارتی رابطوں کو تیز کر دیا ہے، مگر فوجی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ چین، روس اور خطے کے کئی ممالک جنگ بندی اور مذاکرات کی وکالت کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول تک کارروائی جاری رکھنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ عالمی برادری کی توجہ اس بات پر ہے کہ آیا کشیدگی محدود رہے گی یا وسیع تر تصادم میں تبدیل ہو گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK