Updated: March 03, 2026, 6:05 PM IST
| Tehran
چین نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے رابطے میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور امریکہ و اسرائیل سے فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر خلیج میں سفارتی سرگرمیوں اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ روس نے بھی جنگ بندی اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
بیجنگ تہران رابطہ
وانگ یی نے عباس عراقچی سے فون پر گفتگو میں کہا کہ چین ’’ایران کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘ چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق بیجنگ ایران کے ’’جائز اور قانونی حقوق و مفادات‘‘ کی حمایت جاری رکھے گا۔ وانگ نے امریکہ اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی اور کشیدگی کو خطے تک پھیلنے سے روکنے کی اپیل کی، اور کہا کہ موجودہ پیچیدہ صورتحال میں استحکام اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ حالیہ حملوں کے بعد بیجنگ اور تہران کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔
یورپ اور خلیج سے سفارتی بات چیت
جین نویل بیروت اور بدر ابو سعیدی سے الگ الگ گفتگو میں وانگ نے زور دیا کہ ممالک ’’فوجی برتری کو من مانی حملوں کے لیے استعمال نہ کریں‘‘ اور سفارت کاری کی طرف واپسی کریں۔ مسقط کی ثالثی میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے انہوں نے جلد از جلد جنگ بندی کی حمایت کی۔
خلیج میں حفاظتی اقدامات
کویت میں امریکی سفارتخانے نے علاقائی کشیدگی کے باعث مزید نوٹس تک بند رہنے کا اعلان کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سے دستیاب تجارتی پروازوں کے ذریعے روانگی کا مشورہ دیا۔ قطر اور سعودی عرب نے ایرانی ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی، جبکہ توانائی تنصیبات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ضرورت پڑی تو ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی بھی ممکن: ٹرمپ
روس کی وارننگ اور جنگ بندی کی اپیل
دمتری میدیدوف نے مغرب کو خبردار کیا کہ کشیدگی عالمی سطح پر پھیل سکتی ہے، جبکہ ماسکو نے حملوں کو ’’خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت‘‘ قرار دے کر فوری سفارت کاری کا مطالبہ کیا۔ ولادیمیر پوتن اور محمد بن زائد النہیان کی گفتگو میں بھی جنگ بندی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروف نے شہری اہداف پر حملوں کی مذمت کی اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
عسکری پیش رفت اور ردعمل
واشنگٹن نے ایران کے خلاف اپنی کارروائی کو ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ اہداف کے حصول تک کارروائی جاری رہے گی۔ تہران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آپریشن جاری رہ سکتا ہے، جبکہ خطے میں توانائی کی سپلائی اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل کو بچانے کیلئے دیگر خلیجی ممالک کے دفاع سے توجہ ہٹالی ہے: سینئر سعودی اہلکار
سعودی تجزیہ کار سلیمان العقیلی نے خبردار کیا کہ خلیجی ریاستیں ممکنہ میزائل و ڈرون حملوں کے خطرات سے دوچار ہیں اور توانائی تنصیبات کو خاص تحفظ درکار ہے۔ ایسے میں امریکہ نے اپنی پوری توجہ اسرائیل کی طرف موڑ دی ہے اور ہمیں یونہی چھوڑ دیا ہے۔ اس درمیان سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے کئی ماہ تک ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا
مجموعی منظرنامہ
موجودہ بحران نے سفارتی رابطوں کو تیز کر دیا ہے، مگر فوجی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ چین، روس اور خطے کے کئی ممالک جنگ بندی اور مذاکرات کی وکالت کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول تک کارروائی جاری رکھنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ عالمی برادری کی توجہ اس بات پر ہے کہ آیا کشیدگی محدود رہے گی یا وسیع تر تصادم میں تبدیل ہو گی۔