’’ چین کورونا وائرس سے واقف تھالیکن اس نے اس کی معلومات چھپائی ‘‘

Updated: July 12, 2020, 9:23 AM IST | Agency | Hong Kong

وطن چھوڑنے سے قبل ہانگ کانگ کی خاتون سائنسداں لی مینگ ین کا دعویٰ ، خود کو چینی حکومت کی جانب سے بدنام کئے جانے کا الزام  دنیا بھر میں تباہی مچانے والی وبا کورونا وائرس کے تعلق سے چین پر الزام لگانے والوں کی فہرست میں ایک اورنام کا اضافہ ہو گیا ہے۔  ہانگ کانگ کی وائرولوجی  کی خاتون سائنسداں لی مینگ ین نے اپنا ملک چھوڑنے سے پہلے الزام لگایا ہے کہ چین پہلے  ہی سے کورونا وائرس سے واقف تھا اور اس نے  دنیا  سےیہ معلومات چھپائی  تھی۔

Lee Mang Yen
ہانگ کانگ کی سائنسداں لی مینگ ین

 دنیا بھر میں تباہی مچانے والی وبا کورونا وائرس کے تعلق سے چین پر الزام لگانے والوں کی فہرست میں ایک اورنام کا اضافہ ہو گیا ہے۔  ہانگ کانگ کی وائرولوجی  کی خاتون سائنسداں لی مینگ ین نے اپنا ملک چھوڑنے سے پہلے الزام لگایا ہے کہ چین پہلے  ہی سے کورونا وائرس سے واقف تھا اور اس نے  دنیا  سےیہ معلومات چھپائی  تھی۔
 ہانگ کانگ کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے وائرولوجی سائنس شعبہ کے  سائنسداں اور امیونولوجی کی ماہر ڈاکٹر  لی مینگ ین نے ہانگ کانگ چھوڑنے سے قبل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ   الزام بھی لگایا کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او)  ا س بات  سے آگاہ ہو چکا تھا ۔ اس کے  باوجود اس نے  اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔  انہوں نے کہا کہ’’ یہ  دسمبر میں ہی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ وائرس انسانوں میں پھیل سکتا ہے۔‘‘
 ڈاکٹر لی ین نے عالمی ادارۂ صحت کے مشیر پروفیسر ملک پیرس پر بھی الزام لگایا کہ  و ہ  یہ سب جانتے تھے اس کے باوجود پروفیسر نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ وہ ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ منظور شدہ ایک  لیبارٹری کے شریک ڈائریکٹر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مجھے یقین ہے کہ جب چینی حکومت نے کورونا وائرس کے بارے میں دعویٰ کیا تو   اس سے پہلے ہی وہ اس وائرس سے پوری طرح واقف تھا۔‘‘لی مینگ کا کہنا ہے کہ ’’دسمبر میں سارس وائرس پر ایک مطالعہ بھی ہوا تھا۔‘‘  
 سائنسداں نے الزام لگایا ہے کہ چین ان کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ فی الحال اپنی جان بچانے کے لئے ہانگ کانگ سے فرار ہوگئی ہیں۔ وہ دنیا کے ان چند ماہرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے سب سے پہلے کورونا وائرس کا مطالعہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان میں جس ڈاکٹر نے کورونا وائرس کی سب سے پہلے اطلاع دی تھی۔ وہ خود اس وائرس کا شکار   ہو گیا تھا  لیکن اسپتال میں داخل کرنے کے بعد مشتبہ  حالت میں اس کی موت ہو گئی تھی۔  اس وقت بھی چین پر الزامات لگے تھے۔ 
  ویسے لی مینگ ین سیاسی وجوہات کی بنا پر ہانگ چھوڑ رہی ہے۔ وہاں نافذ کردہ نئے سیکوریٹی قانون   کے مخالفین پر کارروائیاں جاری ہیں۔ لی مینگ ین نے امریکہ میں پناہ حاصل کی ہے اور امریکہ شروع سے چین پر کورونا وائرس  کے معاملے میں مختلف الزاما عائد کرتا آیا ہے ۔  اس نے بھی ٹھیک یہی الزامات عائد کئے ہیں جو اس وقت لی مینگ ین عائد کر رہی ہیں۔ حال ہی  میں ڈبلیو ایچ او نے بھی  اپنی ایک ٹیم چین بھیجی ہے جو اس بات کی تفتیش کرے گی کہ کورونا وائرس چین  میں کیسے پھیلا  سب سے پہلے کہاں پایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ چین سارے الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK