• Thu, 01 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: نئے سال کی تقریر میں شی جن پنگ کا تائیوان کے الحاق کا عہد، ترقی پر زور

Updated: January 01, 2026, 11:56 AM IST | Beijing

چین کے صدر شی جن پنگ نے نئے سال کی تقریر کے دوران چین اور تائیوان کے دوبارہ اتحاد کا عہدکیا، ساتھ ہی انہوں نے ترقی پر بھی زور دیا، اپنی سالانہ ٹیلی ویژن تقریر میں شی نے مصنوعی ذہانت، چپ ڈویلپمنٹ، خلائی اور فوجی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی تعریف کی اور ملک سے معاشی ترقی کو تیز کرنے کی اپیل کی۔

Chinese President Xi Jinping. Photo: INN
چین کے صدر شی جن پنگ۔ تصویر: آئی این این

بیجنگ میں اپنی سالانہ نئے سال کی تقریر میں چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کو چین اور تائیوان کے الحاق کا عہد کیا۔ تائیوان کے اردگرد چین کی شدید فوجی مشقیں ختم ہونے کے ایک دن بعد تقریر کرتے ہوئے شی نے کہا، ’’ہمارے مادر وطن کا اتحاد، زمانے کا رجحان ہے، ناقابلِ تردید ہے۔ واضح رہے کہ چین خود مختار جزیرے تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت استعمال کر کے اسے ضم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اپنی سالانہ ٹیلی ویژن تقریر میں شی نے مصنوعی ذہانت، چپ ڈویلپمنٹ، خلائی اور فوجی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی تعریف کی اور ملک سے معاشی ترقی کو تیز کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: ویب سائٹ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مکان کےاسرائیلی اشتہار ہٹانے کا حکم

تاہم امریکی انٹیلی جنس چین کی مسلح افواج کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوںسے تشویش میںمبتلا ہے کہ شی ایسا حملہ کر سکتے ہیں۔پیر اور منگل کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تائیوان کے اردگرد لائیو فائر فوجی مشقیں کیں، جو اہم بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی مشق تھیں اور نیوی، ایئر فورس، راکٹ فورس اور کوسٹ گارڈ کو تائیوان کے مرکزی جزیرے کو گھیرنے کے لیے بھیجا۔ جسٹس مشن ۲۰۲۵ء نامی یہ مشقیں پچھلی مشقوں کے مقابلے میں تائیوان کے زیادہ قریب تھیں اور کم از کم۸۹؍ جنگی طیاروں پر مشتمل تھیں، جو ایک سال سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشقیں متوقع تھیں، لیکن چینی مبصرین نے انہیں امریکی حکومت کی جانب سے تائیوان کو۱۱؍ ارب ڈالر کی ہتھیاروں کی فروخت کی حالیہ منظوری سے جوڑا۔شی نے کہا کہ چین نے ’’کھلی بانہوں سے دنیا کو گلے لگایااور بیجنگ کی میزبانی میں ہونے والے کئی کثیر الجہتی کانفرنسوں کو اجاگر کیا، جن میں اگست میں شنگھائی کوآپریشن سمٹ شامل ہے، جب عالمی لیڈر بشمول روسی ولادیمیر پوتن، ہندوستانی ویر اعظم نریندر مودی اور ترکی کے رجب طیب اردگان بیجنگ کے قریب بندرگاہ کے شہر تیانجن میں جمع ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: مئی میں ہند پاک تنازع میں ثالثی کی: چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا دعویٰ

چینی سرکاری میڈیا پر شی کی تقریر کی نشریات میں چین کی اب تک کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کے کئی مناظر شامل تھے،جبکہ اس پریڈ کو فوجی طاقت کے بے لگام مظاہرے کے طور پر دیکھا گیا، جس میں شی، پوتن اور شمالی کوریا کے لیڈرکم جونگ ان بیجنگ میں شانہ بشانہ کھڑے تھے۔اپنی تقریر میں شی نے ’’تائیوان ریٹروسیشن ڈے‘‘(تائیوان کی بحالی)کو بھی اجاگر کیا، جو۲۰۲۵ء میں شروع کیا گیا یادگار دن ہے جو۱۹۴۵ء میں تائیوان پر جاپانی سلطنت کے خاتمے کی سالگرہ کا دنہے۔ بعد ازاں اس سال تائیوان نے بھی۲۵؍ اکتوبر کو قومی تعطیل کے طور پر تسلیم کرنے کا قانون پاس کیا۔
تاہم تائیوان کے صدر لای چنگ تے نے بھی ایک زوردار تقریر کی جس میں تائیوان کا موازنہ ۱۹۳۰ء کی دہائی کی یورپی جمہوریتوں سے کیا جو نازی جرمنی کی طرف سے خطرے کا سامنا کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان میں ۲۰۲۵ء میں بچوں کی شرح پیدائش کم ترین سطح پر

شی نے اس سال چین کی ہائی ٹیک ڈویلپمنٹ میں پیشرفت کی بھی تعریف کی، کک باکسنگ روبوٹس اور ایک دم دار ستارے کی تلاش کے مشن کا ذکر کیا۔ انہوں نے چینی ثقافتی برآمدات کی عالمی کامیابی کو بھی نشان زد کیا۔ اس سے قبل دن کےآغاز میں شی نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ چین اپنے ۵؍ فیصد جی ڈی پی ترقی کے ہدف کو پورا کرنے کی راہ پر ہے۔ خیال رہے کہ بیجنگ کو اہم معاشی مسائل کا سامنا ہے، اور آنے والے سال اس کی واشنگٹن کے ساتھ رقابت میں عالمی ترتیب میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے اہم ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK