Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: ببل ٹی فرم ”مولی ٹی“ کو لوگو کاپی رائٹ کیس میں لوئی ویتون کو ۵ء۱؍ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنےکاحکم

Updated: July 06, 2026, 7:05 PM IST | Beijing

چینی شہر سوزو کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مولی ٹی کے لوگو نے لوئی ویتون (LV) کے معروف چار پتیوں والے پھول کے ٹریڈ مارک ڈیزائن کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے مولی ٹی کو متنازع لوگو کا استعمال بند کرنے، عوامی سطح پر معافی مانگنے اور لوئی ویٹون کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

چین کی ایک عدالت نے مقبول ببل ٹی فرم ”مولی ٹی“ (Molly Tea) کو فرانسیسی لگژری برانڈ ’لوئی ویتون‘ (Louis Vuitton) کو ۳ء۱۰ ملین یوآن (تقریباً ۵ء۱ ملین ڈالر) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر سنایا کہ مولی ٹی کے لوگو نے لوئی ویتون (LV) کے معروف چار پتیوں والے پھول کے ٹریڈ مارک ڈیزائن کی خلاف ورزی کی ہے۔

چینی سرکاری میڈیا ’چائنا ڈیلی‘ کے مطابق، مشرقی صوبے جیانگ سو کے تاریخی شہر سوزو کی ایک عدالت نے مولی ٹی کو متنازع لوگو کا استعمال بند کرنے، عوامی سطح پر معافی مانگنے اور لوئی ویٹون کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ شینزین میں قائم اس چائے کی کمپنی اور اس سے وابستہ فرموں نے اس سے قبل متعدد ٹریڈ مارکس کیلئے درخواستیں دی تھیں جنہیں چائنا نیشنل انٹلیکچوئل پراپرٹی ایڈمنسٹریشن نے مسترد کر دیا تھا۔ صرف ”مولی ٹی“ کے چینی حروف پر مشتمل ٹریڈ مارک ہی کامیابی سے رجسٹرڈ ہو پایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کا چین کو بڑا دھچکا، سستی اشیا پر ۳؍ یورو کی یکساں کسٹم ڈیوٹی عائد

عدالت کے اس فیصلے نے چین میں عوامی رائے کو تقسیم کر دیا ہے اور اس کیس سے منسلک ایک ہیش ٹیگ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ۴۰۰ ملین سے زیادہ ویوز اور دسیوں ہزار کمنٹس حاصل ہو چکے ہیں۔ بہت سے صارفین نے مولی ٹی کا دفاع کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ خود لوئی ویتون کے ڈیزائن چینی نوادرات اور روایتی نمونوں سے متاثر تھے۔ ویبو (Weibo) پر ایک صارف نے لکھا کہ ”بس بھی کرو، وہ صرف اس بات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد نے پیٹنٹس فائل نہیں کئے تھے،“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یکجہتی کے طور پر ”روزانہ مولی ٹی کا ایک کپ پیئیں گے۔“ ’ریڈ نوٹ‘ (RedNote) پر ایک صارف نے دلیل دی کہ ”ایسی بنیادی ہندسی شکلیں (geometric shapes) تاریخ میں ہر جگہ استعمال ہوتی رہی ہیں، نہ کہ صرف چین میں۔“

تاہم، کئی صارفین نے عدالت کے فیصلے کی حمایت کی۔ ایک ویبو صارف نے کہا کہ مولی ٹی کا دفاع کرنے والوں کو ”پہلے قانون کا مطالعہ کرنا چاہئے۔“ ان کی دلیل تھی کہ لوئی ویتون نے پہلے ہی قانونی طور پر یہ لوگو رجسٹرڈ کرا لیا تھا۔ ایک اور صارف نے کہا کہ لوئی ویٹون اپنے انٹلیکچوئل پراپرٹی کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے، چاہے نقل کرنے والا برانڈ کسی بھی انڈسٹری میں کام کر رہا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: سروے کے مطابق زیادہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ سے واپس آ رہے ہیں

بی بی سی نے کہا کہ اس نے اس معاملے پر تبصرے کیلئے مولی ٹی اور لوئی ویتون دونوں سے رابطہ کیا ہے۔ اس کیس نے چین میں انٹلیکچوئل پراپرٹی کے تحفظ اور مغربی لگژری برانڈز اور مقامی کمپنیوں کے درمیان پائے جانے والے دوہرے معیار (ڈبل اسٹینڈرڈز) کے بارے میں ایک وسیع تر بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK