Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی محکمۂ انصاف کا اڈانی کے خلاف کیس ختم کرنے کا دفاع، کہا کیس ’سفارتی تنازع‘ کا باعث بن سکتا ہے

Updated: July 06, 2026, 7:06 PM IST | New York

محکمہ نے دلیل دی کہ امریکہ کا ”دنیا کی پولیس بننے کا ناٹک کرنا“ سفارتی تنازع کا سبب بن سکتا ہے اور ان وسائل کو ضائع کر سکتا ہے جنہیں ملکی مسائل سے نمٹنے کیلئے بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ نے مزید کہا کہ امریکی سرکاری وکلاء کو ایسے غیر ملکی کیس کی پیروی نہیں کرنی چاہئے جس میں کوئی مجرمانہ تنظیمیں، کوئی امریکی کمپنیاں شامل نہ ہوں اور نہ ہی اس کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق ہو۔

Gautam Adani. Photo: X
گوتم اڈانی۔ تصویر: ایکس

رائٹرز (Reuters) کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمۂ انصاف (ڈی او جے) نے سنیچر کے دن نیویارک کی ایک عدالت کو بتایا کہ وہ اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کے خلاف دھوکہ دہی کے الزامات کو اس لئے ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ کیس بنیادی طور پر غیر ملکی نوعیت کا ہے، اسے ثابت کرنا مشکل ہے اور یہ محکمہ کی موجودہ ترجیحات کے مطابق نہیں ہے۔

محکمہ نے دلیل دی کہ امریکہ کا ”دنیا کی پولیس بننے کا ناٹک کرنا“ سفارتی تنازع کا سبب بن سکتا ہے اور ان وسائل کو ضائع کر سکتا ہے جنہیں ملکی مسائل سے نمٹنے کیلئے بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنی فائلنگ میں، محکمۂ انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ ”اس کیس میں مبینہ ’ادائیگیاں‘ ہندوستانی شہریوں کی طرف سے، ہندوستانی کمپنیوں کیلئے کام کرتے ہوئے، ہندوستانی حکومت کو کی گئی تھیں، اس میں کسی بھی طرح سے امریکی مفادات شامل نہیں ہیں۔“ اس نے دلیل دی کہ امریکی سرکاری وکلاء کو ایسے غیر ملکی کیس کی پیروی نہیں کرنی چاہئے جس میں کوئی مجرمانہ تنظیمیں، کوئی امریکی کمپنیاں شامل نہ ہوں اور نہ ہی اس کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق ہو۔

یہ بھی پڑھئے: اڈانی گروپ کیس پر امریکی محکمہ انصاف نے کہا: کیس کبھی شروع نہیں ہونا چاہیے تھا

محکمہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ بائیڈن انتظامیہ کے تحت استغاثہ نے گوتم اڈانی کے خلاف ”بے بنیاد کیس“ شروع کیا تھا جس کے ٹرائل تک پہنچنے کا کوئی حقیقی امکان نہیں تھا۔ اس نے مزید نوٹ کیا کہ ہندوستانی حکام پہلے ہی ان میں سے کئی الزامات کی تحقیقات کر چکے ہیں اور انہیں کوئی قابلِ کارروائی غلط سلوک نہیں ملا۔ ”وہ ملک جس کا اس معاملے میں اب تک کا سب سے مضبوط مفاد ہے، اسی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں ہوا تھا۔“

محکمۂ انصاف کی یہ فائلنگ نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کیلئے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نکولس گارفیس کی جانب سے ۲۶ جون کو جاری کئے گئے حکم کے براہِ راست جواب میں سامنے آئی ہے، جنہوں نے محکمۂ انصاف سے الزامات کو ختم کرنے کے اپنے فیصلے کا جواز پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور انتظامیہ کے پچھلے بیان کو ”مختصر، روکھا اور حتمی“ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سروے کے مطابق زیادہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ سے واپس آ رہے ہیں

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بنیادی طور پر ۱۸ مئی کو ان الزامات کو خارج کرنے کی تحریک پیش کی تھی۔ یہ اقدام ان رپورٹوں کے بعد سامنے آیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ اڈانی کے وکلاء نے محکمۂ انصاف کو بتایا تھا کہ اگر الزامات ختم کر دیئے گئے تو وہ امریکی معیشت میں ۱۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اور ۱۵۰۰۰ ملازمتیں پیدا کریں گے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ محکمۂ انصاف نے اڈانی کی جانب سے ٹرمپ کے ذاتی وکیل، رابرٹ جے جیوفرا جونیئر کی خدمات حاصل کرنے کے بعد الزامات کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے اپریل میں محکمۂ انصاف کے حکام کے سامنے ۱۰۰ سلائیڈز پر مشتمل ایک دلیل پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ استغاثہ کے پاس شواہد اور دائرۂ اختیار کی کمی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK