Updated: July 06, 2026, 8:03 PM IST
| Islamabad
قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے دو سال بعد بھی پاکستان میں تعلیمی بحران بدستور برقرار ہے۔ سول سروسیز اکیڈمی (CSA) کی نئی پالیسی رپورٹ کے مطابق ملک میں ۲؍ کروڑ ۵۱؍ لاکھ سے ۲؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ بچے اب بھی اسکولوں سے دور ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ نئی پالیسیوں کا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد، کمزور طرزِ حکمرانی، ناکافی فنڈنگ، انتظامی تقسیم اور صوبائی تفاوت کا ہے۔
پاکستان میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو برس گزرنے کے باوجود لاکھوں بچوں کی تعلیم کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ سول سروسیز اکیڈمی (CSA) کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تقابلی پالیسی جائزے کے مطابق ملک میں اس وقت ۲؍ کروڑ ۵۱؍ لاکھ سے ۲؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا میں سب سے بڑے تعلیمی بحرانوں میں سے ایک کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اصل مسئلہ نئی تعلیمی پالیسیاں بنانے کا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ کمزور گورننس، انتظامی تقسیم، ناکافی مالی وسائل، محدود ترقیاتی سرمایہ کاری اور صوبوں کے درمیان نمایاں تفاوت نے تعلیمی اصلاحات کو شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں تعلیم پر سرکاری سرمایہ کاری تشویشناک حد تک کم ہے۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے ماہر تعلیم ڈاکٹر فیصل باری کے مطابق پاکستان میں مجموعی تعلیمی اخراجات ملکی مجموعی پیداوار (GDP) کے ایک فیصد سے بھی کم رہ گئے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ تعلیم پر کم از کم چار فیصد اخراجات کی سفارش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں تعلیمی بجٹ کا ۸۱؍ سے ۹۰؍ فیصد حصہ صرف تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے، جس کے باعث نئے اسکولوں، انفراسٹرکچر اور تعلیمی سہولیات کی ترقی کے لیے انتہائی محدود وسائل بچتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: جہازوں کے گزرنے کی فیس لیں گے مگر اتحادی ملکوں کے ساتھ مختلف رویہ
صوبوں کی صورتحال
(۱) پنجاب میں اسکول سے دور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں ۹۶؍ لاکھ سے ایک کروڑ ۴؍ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے اور راجن پور میں تقریباً ۴۸؍ فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔
(۲) سندھ میں تقریباً ۷۴؍ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پرائمری اسکولوں کی نسبت سیکنڈری تعلیمی اداروں کی شدید کمی کے باعث ۵۴؍ فیصد بچے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ سیلاب سے صوبے کے تقریباً نصف سرکاری اسکول متاثر ہوئے۔
(۳) خیبرپختونخوا میں تقریباً ۴۹؍ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ دشوار گزار جغرافیہ، سیکوریٹی مسائل اور خواتین اساتذہ کی کمی کو اس کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
(۴) بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے ۱۵؍ ہزار ۲۷۰؍ اسکولوں میں سے ۳؍ ہزار ۶۱۷؍ یا تو غیر فعال ہیں یا صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسکول سے دور بچوں میں ۷۸؍ فیصد لڑکیاں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کے دیہی علاقے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بھی غیر رسمی آبادیوں، دور افتادہ علاقوں اور خواتین میں ناخواندگی کی بلند شرح کے باعث اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے خود کواسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا باس قرار دیا، اگلے ملاقات کی تصدیق
معذوری، غذائی قلت اور تعلیمی معیار بھی بڑے چیلنج
ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالحمید کے مطابق اسکول سے باہر تقریباً ۳۰؍ فیصد بچے کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں، جو خصوصی اور جامع تعلیم کے نظام میں موجود بڑے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر فیصل باری نے کہا کہ ملک میں تقریباً ۴۰؍ فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کا براہِ راست اثر ان کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ناقص انفراسٹرکچر، کمزور تدریسی معیار اور ایسی تعلیم جو روزگار سے منسلک نہ ہو، بھی طلبہ کے تعلیم چھوڑنے کی اہم وجوہات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شدید گرمی کی لہر کے سبب امریکہ کے مختلف شہروں میں توانائی کا بحران
رپورٹ کی سفارشات
سول سروسیز اکیڈمی کی رپورٹ میں بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد بنیادی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن میں:
(۱) نادرا کے فارم بی سے منسلک متحدہ قومی طلبہ رجسٹری کا قیام۔
(۲) طلبہ کی ریئل ٹائم نگرانی کا نظام۔
(۳) رسمی اور غیر رسمی تعلیمی ڈیٹا کو ایک پلیٹ فارم پر لانا۔
(۴) دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین اساتذہ کے لیے خصوصی مالی مراعات۔
(۵) خودمختار ضلعی تعلیمی اتھارٹیز کا قیام اور انہیں اختیارات کی منتقلی۔
رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت پہلے ہی اسکول میل پروگرام، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے مختلف اقدامات کر رہی ہے، تاہم خبردار کیا گیا ہے کہ مؤثر احتساب، پائیدار فنڈنگ اور گورننس میں اصلاحات کے بغیر قومی تعلیمی ایمرجنسی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گی۔