چین کے ایک یتیم شخص نے انٹرنیٹ کے اجنبیوں کو اپنی شادی میں مدعو کیا، جس کے بعداپنا بڑا دن بانٹنے کے لیےسینکڑوں لوگ شامل ہوگئے،دراصل والدین نہ ہونے پر دولہا نے سوشل میڈیا کا رخ کیا، اور انٹرنیٹ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 10:52 AM IST | Beijing
چین کے ایک یتیم شخص نے انٹرنیٹ کے اجنبیوں کو اپنی شادی میں مدعو کیا، جس کے بعداپنا بڑا دن بانٹنے کے لیےسینکڑوں لوگ شامل ہوگئے،دراصل والدین نہ ہونے پر دولہا نے سوشل میڈیا کا رخ کیا، اور انٹرنیٹ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
چین سے تعلق رکھنے والے۲۴؍ سالہ شخص نے، اس فکر میں کہ اس کی شادی کا گواہ بننے کے لیے خاندان کا کوئی فرد نہیں ہوگا، انٹرنیٹ پر اجنبیوں کو اپنا بڑا دن منانے کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔ نہ صرف لوگ مفت شادی کی دعوت کے لیے آئے، بلکہ وہ تحائف اور شادی کے لیے ضروری سامان بھی لائے۔یوننان صوبے کے ژاؤٹونگ سے تعلق رکھنے والے یتیم شیاؤ شیاؤ شو نے انٹرنیٹ کو اپنی شادی میں مدعو کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس کے رشتہ دار تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔نوجوان نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا گیا کہ جب وہ تین سال کا تھا تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا اور اس کی والدہ نے بعد میں دوسری شادی کر لی تھی، جس سے وہ اور اس کا بڑا بھائی ایک دوسرے کا سہارا بن گئے۔ آن لائن رپورٹس کے مطابق اس نے شادی کے لیے پیسے بچائے تھے، لیکن اسے یقین نہیں تھا کہ کوئی رشتہ دار آئے گا یا نہیں۔ اس لیے اس نے آن لائن لوگوں کو مدعو کیا۔
I love this part of humanity I cried so much An orphan invited the internet for his wedding and thousands of people showed up with gifts and many other things needed for the celebration https://t.co/E75x480i6n
— Dimma (@iamdimma4) October 30, 2026
باورچی آ گئے، اور شادی کی کاروں کا بیڑا ترتیب دینے والے لوگ بھی آ گئے۔ دوسروں نے اس کے گھر کو سجانے میں مدد کی، دعوت کے لیے اجزاء لائے اور شادی کی مٹھائیاں تقسیم کیں۔اس شخص کے خلوص، اجنبیوں کی مہربانی کے ساتھ مل کر، چھوٹے سے گاؤں میں اسےصدی کی شادی بنا دیا۔
Many say this is one of the largest folk weddings across China. The groom Xiao Xu from Yunnan lost his parents at a young age. With no close family beside him, he works as an ordinary migrant worker. Worried his wedding would be cold and quiet, he put out a gentle invitation online for anyone willing to come. Nearly thousands of warm‑hearted volunteers answered his call. Dozens of wedding convoys arrived, over 100 volunteer chefs cooked nonstop, and tons of donated food and supplies poured into the mountain village. Strangers travelled hundreds of miles just to stand by him. What could have been a lonely ceremony became a nationwide embrace of kindness and humanity.
— Sharing Travel (@TripInChina) October 31, 2026
صارفین نے آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو پر محبت اور خوشی کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’ٹھیک ہے میں کیوں رو رہا ہوں؟ مجھے انسانیت کا یہ پہلو پسند ہے۔‘‘ایک اور صارف نے کہا، ’’سوشل میڈیا اسی لیے بنایا گیا تھا۔ نوبیاہتا جوڑے کے لیے نیک خواہشات! اور ان لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس کے ساتھ جشن منایا۔‘‘
تیسرے صارف نے کہا، انہوں نے اسے ایک تہوار بنا دیا۔ ایک ایسا دن جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ انسانیت کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مجھے ان سب پر فخر ہے جو آئے اور شادی شدہ جوڑے کو مبارکباد۔‘‘