چین نے Zhejiang صوبے کے شہر Hangzhou میں روبوٹس کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا خصوصی تربیتی ادارہ قائم کر دیا ہے، جہاں Humanoid Robots کو صنعت، خدمات، سیکوریٹی، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں میں حقیقی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 2:04 PM IST | Beijing
چین نے Zhejiang صوبے کے شہر Hangzhou میں روبوٹس کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا خصوصی تربیتی ادارہ قائم کر دیا ہے، جہاں Humanoid Robots کو صنعت، خدمات، سیکوریٹی، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں میں حقیقی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت اور ہیومنائیڈ روبوٹس کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے چین نے روبوٹس کی عملی تربیت کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا خصوصی ادارہ قائم کر دیا ہے۔ Hangzhou Robot School نامی یہ مرکز مشرقی چین کے صوبہ Zhejiang کے شہر Hangzhou میں قائم کیا گیا ہے، جہاں روبوٹس کو مختلف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں فیکٹریوں، اسپتالوں، سیکوریٹی، خدمات اور دیگر شعبوں میں مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔ ادارے کے مطابق پہلے مرحلے میں ۳۰؍ ہیومنائیڈ روبوٹس نے تربیت کا آغاز کیا ہے۔ یہ روبوٹس مینوفیکچرنگ، سروسریز اور تفریحات سمیت مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تربیتی پروگرام کا آغاز ہر روبوٹ کی جسمانی ساخت اور تکنیکی صلاحیتوں کے جائزے سے کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس کی استعداد کے مطابق مخصوص نصاب، عملی مشق اور کارکردگی کا امیتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب ہونے والے روبوٹس کو متعلقہ شعبے میں کام کرنے کے لیے سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں حکومت گرانے کا مبینہ منصوبہ ناکام، موساد سے دو سینئر افسر برطرف
اسکول کے انجینئر ژو تیان لے (Zhu Tianle) نے کہا: ’’ہم ہر روبوٹ کی جسمانی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے الگ تربیتی منصوبہ تیار کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہر مشین وہی مہارت سیکھے جسے وہ حقیقی دنیا میں مؤثر انداز میں انجام دے سکتی ہے۔‘‘ تربیتی نصاب کو چار بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں Technical Skills، Nursing، Arts اور Sports شامل ہیں۔ مختلف ویڈیوز میں تربیت حاصل کرنے والے روبوٹس کو موسیقی بجانے، کھیلوں میں حصہ لینے، اشیا سنبھالنے اور دیگر عملی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار کے ذریعے روبوٹس کو صرف پروگرامنگ نہیں بلکہ حقیقی ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت بھی دی جا رہی ہے۔ چین گزشتہ چند برسوں سے Embodied AI اور Humanoid Robots کی تیاری پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس سے قبل Hangzhou میں ایک قومی سطح کا Embodied AI Pilot Base بھی قائم کیا جا چکا ہے، جہاں روبوٹس کو گوداموں، اسمارٹ کچنز، زرعی فارموں، لاجسٹکس مراکز اور دیگر حقیقی ماحول میں تربیت دی جاتی ہے تاکہ لیبارٹری اور عملی دنیا کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: پراگ چڑیا گھر: جانوروں کو گرمی سے بچانے کیلئے آئسکریم اور برف کے خصوصی انتظامات
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں روبوٹس نے رقص، دوڑ اور دیگر نمائشی سرگرمیوں میں تو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اصل چیلنج انہیں روزمرہ ملازمتوں کے قابل بنانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت چین نے تربیت، جانچ اور سرٹیفکیشن کا یہ نیا ماڈل متعارف کرایا ہے، جس سے مستقبل میں صنعتوں اور سروس سیکٹر میں روبوٹس کے استعمال میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ روبوٹ اسکول کا بنیادی مقصد صرف جدید ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں بلکہ ایسے Humanoid Robots تیار کرنا ہے جو مستقبل میں انسانی کارکنوں کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں کام کر سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی، افرادی قوت میں کمی اور صنعتی خودکاری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر ایسے منصوبے آئندہ برسوں میں مزید اہمیت اختیار کریں گے۔