• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین امریکہ کی اے آئی دوڑ قاہرہ تک پہنچ گئی، مصر کو اہم تزویراتی فیصلہ درپیش

Updated: September 04, 2026, 10:04 PM IST | Cairo

چینی صدر شی جن پنگ کا مصر کا تین روزہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی ۷۰؍ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔ یہ چار سال میں مشرق وسطیٰ کا ان کا پہلا اور ایک دہائی میں مصر کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے نے جغرافیائی سیاسی مبصرین کے درمیان مصر کی سفارتی حکمت عملی پر بحث چھیڑ دی ہے۔

America And China.Photo:INN
چین اور امریکہ۔ تصویر:آئی این این

چینی صدر شی جن پنگ کا مصر کا تین روزہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی ۷۰؍ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔ یہ چار سال میں مشرق وسطیٰ کا ان کا پہلا اور ایک دہائی میں مصر کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے نے جغرافیائی سیاسی مبصرین کے درمیان مصر کی سفارتی حکمت عملی پر بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ مصر ایک طرف چین کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا چاہتا ہے، جو اس کے سب سے بڑے اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اس کا اہم دفاعی اور تزویراتی شراکت دار ہے۔لیکن مصر کو دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک اور نازک توازن کا سامنا ہے: وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ میں امریکہ اور چین کے درمیان ممکنہ میدانِ کارزار بنتا جا رہا ہے۔
شی جن پنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے مصر میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرنے کے لیے ٹینڈر جمع کرایا ہے۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکہ ہواوے کی پیشکش کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پیشکش تیار کر رہا ہے۔ جو بھی کمپنی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کا معاہدہ حاصل کرے گی، اسے مصر کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کا موقع بھی ملے گا۔
مصر کو امریکہ سے ہر سال تقریباً ۳ء۱؍ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے اور وہ امریکہ کا ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران اس نے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی اور فوجی تعلقات بھی مسلسل مضبوط کیے ہیں۔تو اس صورتحال کا امریکہ اور چین کے ساتھ مصر کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اور مصر میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز سے اصل فائدہ کس کو ہوگا؟
ہواوے نے دو کمپیوٹنگ کلسٹرز کی تعمیر کے لیے  اے آئی ماڈل کی تربیت  کے مقصد سے 1,408 Ascend 950 پروسیسرز اور مزید 600 Ascend 950 یا پرانے 910B چپس فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ کمپنی نے منصوبہ ۱۲؍ ماہ میں مکمل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق اس منصوبے کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہوا تو یہ ہواوے کے Ascend اے آئی پروسیسرز کی پہلی معلومات برآمد ہوگی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ان اے آئی چپس کو رکھنے والے بنیادی ڈھانچے کو فوجی، نگرانی اور دیگر سرکاری شعبوں کے کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔بلومبرگ کی جانب سے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ ہواوے کی اے آئی چپس کی پیشکش کے مقابلے میں اینویڈیا، ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (اے ایم ڈی) اور مائیکروسافٹ سمیت کمپنیوں کے ذریعے متبادل پیشکش تیار کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کی تصدیق، ۱۵؍اکتوبر کو ریلیز ہوگی

اس وقت اے آئی کی ترقی اور سرمایہ کاری کے میدان میں چین اور امریکہ عالمی سطح پر سب سے آگے ہیں۔ تاہم دنیا کی ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان فرق تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ۲۰۲۶ء اے آئی انڈیکس رپورٹ کے مطابق صرف سرمایہ کاری کے لحاظ سے امریکہ اب بھی نمایاں طور پر آگے ہے۔  ۲۰۲۵ء میں امریکی کمپنیوں نے نجی شعبے میں اے آئی پر  ۹ء۲۸۵؍ ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ چین میں یہ سرمایہ کاری ۴ء۱۲؍ ارب ڈالر رہی۔ الجزیرہ نے ہواوے سے اس حوالے سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
 مصری ادارہ برائے ذاتی حقوق (ای آئیہ پی آر) سے وابستہ انسانی حقوق کے کارکن محمد رمضان نے الجزیرہ کو بتایاکہ امریکہ اور چین عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ جغرافیائی سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔  ان کے مطابق یہ مقابلہ بنیادی طور پر ڈیٹا اور دنیا کے مختلف خطوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مربوط کرنے کی دونوں ممالک کی صلاحیت کے گرد گھومتا ہے، جو کسی نہ کسی لحاظ سے مستقبل کے لیے ایک جنگ ہے۔  تاہم رمضان کا کہنا تھا کہ مصر میں چین کو امریکہ پر برتری حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ  ہواوے برسوں سے مصر میں موجود ہے اور اس نے مصری حکومت کے ساتھ ٹیلی مواصلاتی آلات کی فراہمی کے لیے متعدد معاہدے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی کمپنیوں کو امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں کم لاگت کی وجہ سے اکثر برتری حاصل ہونے کا امکان ہے۔ 
 ماحولیاتی اعتبار سے پانی کی قلت اور فضائی آلودگی کے باعث مصر کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ مصری حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں فی کس سالانہ پانی کی دستیابی ۵۰۰؍ مکعب میٹر سے بھی کم ہوگئی ہے، جو اقوام متحدہ کی مقرر کردہ آبی قلت کی حد کے نصف سے بھی کم ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں بڑی مقدار میں پانی اور بجلی استعمال ہوتی ہے، کیونکہ زیادہ کمپیوٹنگ طاقت کے لیے نمایاں مقدار میں کولنگ درکار ہوتی ہے۔ مصر کا دارالحکومت بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اے آئی ڈیٹا سینٹر ماحول کی صورتحال کو مزید خراب کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:زیوریو پانچ سیٹ میں جیتے، کئی سیڈ یافتہ مرد کھلاڑی یو ایس اوپن سے باہر

مصری سیاسی تجزیہ کار ماجد مندور نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگرچہ پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن امکان ہے کہ حکومت منصوبے کو  درکار پانی اور توانائی فراہم کرے گی، جبکہ ملک کے دیگر حصوں کو ضروری وسائل سے محروم کر دے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ  اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمد کا معاہدہ  ہوگا اور ضروری نہیں کہ اس سے مصری معیشت کو فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق،   میرے خیال میں اس سے مستقل روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔ شاید کچھ ملازمتیں پیدا ہوں، لیکن مجموعی طور پر مصر جیسے بڑے ملک کے لیے طویل مدت میں یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو معیشت میں بنیادی تبدیلی لائے۔  اس کی وجہ مصر کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ مصر نہر سویز کو کنٹرول کرتا ہے اور افریقہ، مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کی وجہ سے یہ چینی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ اردگرد کے تمام خطوں تک رسائی کے لیے ایک ممکنہ صنعتی اور لاجسٹک مرکز بھی بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK