• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سِٹی گروپ میں ملازمتوں کی کمی: مارچ میں چھٹنی کے ایک اور مرحلے کی تیاری

Updated: January 25, 2026, 8:10 PM IST | Washington

سِٹی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بینک ۲۰۲۶ء میں بھی ملازمین کی تعداد کم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ۲۰۲۲ء میں ملازمین کی تعداد ۲۴۰۰۰۰؍ تھی، جو ۲۰۲۵ءکے آخر تک گھٹ کر ۲۲۶۰۰۰؍ رہ گئی۔ ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۴ء میں کمپنی نے بڑی تخفیف کا اعلان کیا تھا۔

Lay Off.Photo:INN
ملازمین کی چھٹنی۔ تصویر:آئی این این

سِٹی گروپ نے اس سال جنوری میں تقریباً ایک ہزار ملازمین کو کم کردیا۔ اب یہ مارچ ۲۰۲۶ء میں چھٹنی  کے ایک اور مرحلے کی تیاری کر رہا ہے۔ روئٹرس کے مطابق  ذرائع کے مطابق نئی چھٹنی کی لہر بونس کی ادائیگی کے بعد شروع ہو سکتی ہے۔ سِٹی کی سی ای او جین فریزر بڑے اصلاحاتی اقدامات پر کام کر رہی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ  لاگت کو کم کیا جائے، ریگولیٹری مسائل حل کیے جائیں  اور بینک کے منافع میں اضافہ کرکے مقابلے میں برتری حاصل کی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:اوڈیہ موسیقار ابھیجیت مجمدار نہیں رہے، ۵۴؍ برس کی عمر میں آخری سانس لی

روئٹرس کی رپورٹ میں ایک ذرائع نے کہا  ہے کہ مارچ میں ہونے والی چھٹنی  مختلف کاروباری شعبوں میں منیجنگ  ڈائریکٹرز اور سینئر ملازمین کو متاثر کر سکتی ہے۔ ملازمین کی تعداد کم ہونے سے پہلے کچھ سینئر منیجرز کو ان کے رول محفوظ کرنے کے لیے پہلے ہی مختلف ڈویژنز میں دوبارہ تعینات کیا جا چکا ہے۔ ایک اور ذرائع کہتا ہے کہ جنوری میں ہونے والی ملازمتوں  کی کٹوتی سے کئی سینئر ملازمین بھی متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پاکستانی ٹیم کا اعلان، نوجوانوں اور تجربے کا امتزاج،بابر اور شاہین پر اعتماد برقرار

۲۰۲۶ء میں بھی  چھٹنی  جاری  رہے گی
ایک بیان میں سِٹی گروپ نے کہا کہ بینک ۲۰۲۶ء میں بھی ملازمین کی تعداد کم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ چیف فنانشل آفیسر مارک میسن نے ایک ارننگ کال کے دوران کہا کہ سِٹی کے ملازمین کی تعداد۲۰۲۲ء میں۲۴۰۰۰۰؍ تھی، جو گزشتہ سال کے آخر تک گھٹ کر۲۲۶۰۰۰؍ رہ گئی۔ جین فریزر نے ۲۰۲۱ء میں سِٹی گروپ کی سی ای او کا عہدہ سنبھالا۔ انہیں اپنی اصلاحاتی منصوبہ بندی میں پیش رفت کے لیے ۵ء۲؍ ملین ڈالر کا ایک وقتی ایکویٹی ایوارڈ بھی ملا۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں انہیں بورڈ کا چیئرمین بھی منتخب کیا گیا۔۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء میں کمپنی نے بڑی چھٹنیاں اس لیے کیں کیونکہ وہ مینجمنٹ کی سطحیں کم کر رہی تھی اور اثاثے فروخت کر رہی تھی  تاہم اب ملازمین کی تعداد میں کمی زیادہ سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK