نالوں میں کوڑاکرکٹ روکنے کیلئے اب مضافاتی علاقوں میں بڑے نالوں پر جالی لگائی جائے گی ۔ شہری انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے نالوں کی صفائی پر ۳۰۰؍ سے ۴۰۰؍ کروڑ روپے کے سالانہ اخراجات میں کمی آئے گی۔
نالوں میں کوڑاکرکٹ روکنے کیلئے اب مضافاتی علاقوں میں بڑے نالوں پر جالی لگائی جائے گی۔ شہری انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے نالوں کی صفائی پر ۳۰۰؍ سے ۴۰۰؍ کروڑ روپے کے سالانہ اخراجات میں کمی آئے گی۔ یہ یقین بھی دلایا ہے کہ تمام نالوں پر جالی لگانے کا کام ۲۰۲۸ء کے مانسون سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔
اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں کارپوریٹروںنے نالوں کی صفائی کے کام پر شہری انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کارپوریٹر یامنی جادھو نے الزام لگایا کہ ریس کورس نالا، کوربا نالا اور وڈالا ٹرک ٹرمنس علاقے کےنالوں میں موجود کوڑاکرکٹ کو پوری طرح سے نہیں ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اُٹھایا اور صفائی کے کام میں کوتاہی برتنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہریش بھنڈیرگے نے بھی ان کی بات کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اگر آپ براہ راست نالوں کا معائنہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیوالی کے دوران بھی بعض مقامات پر پانی بھر جانے کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایڈیشنل میونسپل کمشنر ابھیجیت بانگر نے کہا کہ’’ نالے کے اندر موجود کچرے کو ہٹانا اور پانی پر تیرتے فضلے کو ہٹانا ۲؍ مختلف عمل ہیں ۔ مٹھی ندی کی لمبائی ۱۷ء۸۵؍کلو میٹر ہے اور ہر سال نالوں کی صفائی پر تقریباً ۲۰۰؍ سے ۲۵۰؍کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اب آنے والے وقت میں بڑے نالوں پر حفاظتی جالی لگائی جائے گی۔ اس سے نالوں کی صفائی کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ شہری انتظامیہ نے کچھ جگہوں پر نالوں کے کناروں پر اونچی جالی لگانے کا تجربہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو بارش کے پانی کی نکاسی کے نالوں میں کوڑاکرکٹ پھینکنے سے روکا جا سکے۔ نالے میں کچرے سے زیادہ تیرتا ہوا فضلہ ہوتا ہے ۔ یہ فضلہ نالے کے کنارے پر واقع کچی آبادیوں سے نالے میں پھینکا جاتا ہے جس کی وجہ سے نالے بند ہو جاتےہیں۔ نالے کی صفائی کے بعد بھی ۸؍ دن کے اندر کچرا دوبارہ نالے میں جمع ہو جاتا ہے۔ اس لئے میونسپل انتظامیہ نے بعض مقامات پر نالوں کے کناروں پر جالی بچھا دی ہے۔