• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: ۲۰۲۶ء میں شادیوں کی شرح میں تقریباً ۱۰ فیصد کمی، شرح پیدائش میں مزید گراوٹ کے خدشات بڑھ گئے

Updated: November 07, 2026, 12:35 PM IST | Beijing

شادیوں میں کمی کا نتیجہ عام طور پر پیدائش میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور چین پہلے ہی سکڑتی ہوئی آبادی اور عمر رسیدہ معاشرے کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں ۲۰۲۵ء میں ۷۹ لاکھ ۲۰ ہزار پیدائشیں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء کی ۹۵ لاکھ ۴۰ ہزار کی تعداد کے مقابلے ۱۷ فیصد کم تھیں۔ چین میں شرح پیدائش گر کر ۶۳ء۵ فی ہزار افراد رہ گئی، جو ۱۹۴۹ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔

Picture: X
تصویر: ایکس

چین میں ۲۰۲۶ء کے پہلے نو مہینوں کے دوران شادیوں کے اندراج میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس نے پہلے سے گرتی ہوئی شرح پیدائش اور بدتر ہوتے آبادیاتی بحران کے بارے میں نئے خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، چینی وزارتِ شہری امور کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں جنوری اور ستمبر کے درمیان ۴۶ لاکھ ۴۸ ہزار شادیاں رجسٹر ہوئیں۔ اس تعداد میں گزشتہ سال کے اِسی عرصے کے مقابلے ۵ لاکھ ۴ ہزار، یعنی ۸ء۹ فیصد کی کمی آئی ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ان مہینوں کے دوران تقریباً ۲۰ لاکھ ۸۰ ہزار جوڑوں میں طلاق بھی ہوئی۔ شادیوں کی شرح میں اس گراوٹ کو چینی معاشرے کیلئے ایک بڑے دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شادیوں کی رجسٹریشن میں ۲۰۲۵ء کے دوران عارضی طور پر کچھ بہتری دیکھی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: چین: یتیم شخص نے اپنی شادی میں انٹرنیٹ کے ذریعے اجنبیوں کو مدعوکیا، ہزاروں شریک

شادیوں میں کمی کا نتیجہ عام طور پر پیدائش میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور چین پہلے ہی سکڑتی ہوئی آبادی اور عمر رسیدہ معاشرے کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں ۲۰۲۵ء میں ۷۹ لاکھ ۲۰ ہزار پیدائشیں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء کی ۹۵ لاکھ ۴۰ ہزار کی تعداد کے مقابلے ۱۷ فیصد کم تھیں۔ چین میں شرح پیدائش گر کر ۶۳ء۵ فی ہزار افراد رہ گئی، جو ۱۹۴۹ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ ۲۰۲۵ء میں چین کی مجموعی آبادی میں بھی ۳۳ لاکھ ۹۰ ہزار کی کمی آئی اور یہ گھٹ کر تقریباً ۴۰۵ء۱ بلین (ایک ارب چالیس کروڑ پچاس لاکھ) رہ گئی۔ یہ لگاتار چوتھا سال ہے جس میں چین کی آبادی میں گراوٹ آئی ہے۔ 

چین میں آبادی کا مستقبل میں مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے تولیدی عمر کے گروپ کے طور پر دیکھی جانے والی ۱۵ سے ۴۹ سال کی خواتین کی تعداد رواں صدی کے اختتام تک دو تہائی سے زیادہ کم ہو کر ۱۰ کروڑ سے نیچے آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چین: یومیہ ۲۰ء۱؍ ڈالر کمانے والی لڑکی چین کی امیر ترین خاتون بن گئی

حکومت نے جوڑوں کو شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کیلئے بچوں کی دیکھ بھال کے وظائف (سبسڈیز)، قبل از اسکول بچوں کی دیکھ بھال میں وسیع تر معاونت اور دیگر مراعات متعارف کرائی ہیں۔ تاہم، زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور شادی و خاندانی زندگی کے حوالے سے بدلتے ہوئے رویے کے چلتے ان کوششوں کے اثرات محدود ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK