Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی حکومتیں فوری طور پر گرفتار مظاہرین کو رہا کریں: سی جے پی کا مطالبہ

Updated: July 27, 2026, 3:00 PM IST | New Delhi

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا ہے کہ احتجاج ختم ہونے اور حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود مختلف بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں اب بھی طلبہ اور مظاہرین کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ تمام زیرِ حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لی جائیں اور احتجاج کے دوران زخمی ہونے والوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

CJP founder Abhijeet Dipke. Photo: INN
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے ۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد احتجاج ختم کرنے کے باوجود الزام لگایا ہے کہ مختلف بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں طلبہ اور احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جن تمام مظاہرین کو احتجاج کے دوران گرفتار یا حراست میں لیا گیا تھا، انہیں بلا تاخیر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔ اسکرول کے مطابق CJP نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران صرف احتجاج ختم کرنے پر اتفاق نہیں ہوا تھا بلکہ یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ احتجاج سے متعلق قانونی کارروائیوں پر نظرثانی کی جائے گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر مختلف ریاستوں میں گرفتار طلبہ کو رہا نہیں کیا گیا اور ایف آئی آر واپس نہ لی گئیں تو یہ معاہدے کی روح کے خلاف ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے کی ملاوٹی دودھ کے خلاف کارروائی، مٹھائی کی دکانیں متاثر

تنظیم نے خاص طور پر ان ریاستوں کا ذکر کیا جہاں احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر پولیس کارروائیاں ہوئیں۔ CJP کے مطابق کئی طلبہ اب بھی جیلوں یا پولیس حراست میں ہیں، جبکہ متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں جن کی وجہ سے ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تنظیم نے زور دیا کہ پرامن احتجاج میں شریک نوجوانوں کو مجرموں کی طرح پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران مختلف ریاستوں سے پولیس کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بہار میں بہار بند کے بعد سیکڑوں افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا، جبکہ سیوان میں احتجاج کے دوران AK-47 سے فائرنگ کرنے والے ایک پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح دہلی میں ’’چلو پارلیمنٹ‘‘ مارچ کے دوران طاقت کے استعمال، پیلٹ گن کے استعمال اور لاٹھی چارج سے متعلق تحقیقات بھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ پرچہ لیک احتجاج میں عمر خالد و شرجیل امام کی حمایت کرنے پر دو نوجوان گرفتار

سی جے پی نے اپنے بیان میں زخمی مظاہرین کے لیے مناسب علاج، معاوضے اور پولیس کارروائیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی دہرایا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ احتجاج اگرچہ ختم ہو چکا ہے، لیکن وہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر مسلسل نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ عوامی مہم شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دوسری جانب مرکزی حکومت پہلے ہی احتجاجی قیادت کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں متعدد مطالبات تسلیم کرنے، امتحانی نظام میں اصلاحات پر کام شروع کرنے اور احتجاج کے بعد معمول کی صورتحال بحال کرنے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔ تاہم مختلف ریاستوں میں زیر التوا مقدمات اور گرفتار افراد کی رہائی کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان طے شدہ نکات میں مقدمات واپس لینے یا گرفتار افراد کی رہائی شامل تھی تو اس پر عمل درآمد سے کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم ہر ریاست میں درج مقدمات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے ان کے بارے میں حتمی فیصلے متعلقہ قانونی عمل کے مطابق کیے جائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK