Inquilab Logo Happiest Places to Work

پارلیمنٹ مارچ: حکومت سے مذاکرت کی کوشش، پولیس کی کارروائی، اہم شخصیات کی شرکت

Updated: July 20, 2026, 4:09 PM IST | New Delhi

تعلیمی اصلاحات اور احتساب کے مطالبات پر جاری ’’سنسد چلو‘‘ مارچ کے دوران دہلی میں کشیدگی برقرار ہے، تاہم حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونے سے صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ادھر جنتر منتر اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کے اطراف سخت سیکوریٹی، پولیس کارروائی، حراستوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔

Students crossing police barriers. Photo: PTI
طلبہ پولیس کی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

پارلیمنٹ مارچ تاحال رکا، حکومت سے مذاکرات سے کوشش
پارلیمنٹ کی جانب نکالے جانے والا احتجاجی مارچ تاحال رکا ہوا ہے۔ اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمانوں نے پیر کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے رابطہ کئے جانے کے بعد وہ مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کیلئے روانہ ہو گئے ہیں۔ ادھر جنتر منتر پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنےکیلئے لاٹھی چارج کیا اور ہلکا زور استعمال کیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مبینہ طور پر آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے سربراہ چندرشیکھر آزاد کے قافلے کی آمد کے بعد ہجوم بے قابو ہو گیا، جبکہ اس سے قبل بعض افراد کی جانب سے پتھراؤ کئے جانے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ تاہم، ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک دہلی پولیس کے ایک بھی اہلکار نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا ہے۔ جنتر منتر پر بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے، جبکہ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ احتجاجی مقام پر انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔

سیکوریٹی فورسیز نے آنسو گیس کے شیل داغے
شاستری بھون کے قریب پیر کو اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب متعدد مظاہرین نے سیکوریٹی کی رکاوٹیں عبور کرکے جنتر منتر پہنچنے اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پارلیمنٹ مارچ میں شامل ہونے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سیکوریٹی فورسیز نے آنسو گیس کے شیل داغے، جس کے بعد علاقے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ احتیاطی اقدام کے طور پر قریبی میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی دروازے بند کر دیئے گئے اور رسائی محدود کر دی گئی، جس کے باعث متعدد مسافر اسٹیشنوں کے اندر ہی پھنس گئے۔ کسی بھی ممکنہ سیکوریٹی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے وسطی دہلی میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری بدستور تعینات رہی۔

احتجاج کے دوران مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی امت شاہ سے ملاقات
 مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے پیر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ امت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں واقع اپنے دفتر میں دھرمیندر پردھان سے ملاقات کی۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کو جاری احتجاج کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ملاقات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

’’سنسد چلو‘‘ مارچ: سونم وانگچک نے پارلیمنٹ احتجاج میں شرکت کیلئے صفدر جنگ اسپتال سے ڈسچارج کی درخواست کی
سونم وانگچک نے صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کی اجازت طلب کی ہے تاکہ وہ پارلیمنٹ کی جانب نکالے جانے والے ’’سنسد چلو‘‘ مارچ میں شریک ہو سکیں۔ پیر (۲۰؍ جولائی) کی صبح اسپتال انتظامیہ کو دی گئی تحریری درخواست میں وانگچک نے کہا کہ ان کی صحت کے تمام اہم اشاریے اب مستحکم ہیں، اس لئے انہیں ڈسچارج کی اجازت دی جائے تاکہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے افتتاحی دن ہونے والے احتجاج میں شرکت کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر مغربی میڈیا کی نظریں، تعلیمی بحران پر نئی بحث

مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور جمہوری نوعیت کا ہے، جس کا مقصد احتساب اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ اسٹریٹ کے اطراف سیکوریٹی حصار توڑنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صفدر جنگ اسپتال کی انتظامیہ نے تاحال سونم وانگچک کی ڈسچارج درخواست پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ صحت سے متعلق ضوابط اور حساس نوعیت کے حفاظتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس شروع ہونے کے ساتھ ہی سب کی نظریں وسطی دہلی پر مرکوز ہیں، جہاں سخت پولیس بندوبست اور جمع ہوتے مظاہرین حکومت اور احتجاج کرنے والے گروپوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ 
دوسری جانب، آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (AISA) کے تین عہدیداروں کی قیادت میں جنتر منتر پر جاری بھوک ہڑتال پیر کو باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ممتاز سماجی شخصیات اور اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے طلبہ لیڈروں سے ملاقات کر کے انہیں پانی پلا کر احتجاج ختم کروایا۔ 
ڈمپل یادو اور سنجے سنگھ کی شرکت

سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمان ڈمپل یادو اپنے ساتھی اراکین کے ہمراہ پارلیمنٹ سے جنتر منتر تک پیدل مارچ میں شریک ہوئیں اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر بات چیت سے گریز کا الزام عائد کیا۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ، منیش سسودیا اور آتشی بھی پولیس رکاوٹیں عبور کرکے احتجاجی مقام پہنچے اور مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اپوزیشن کی اس مشترکہ شرکت نے احتجاج کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK