Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی احتجاج: محمد جنید سپریم کورٹ سے رجوع، پولیس پر ہراسانی کا الزام

Updated: July 28, 2026, 4:56 PM IST | New Delhi

غازی آباد کے ایک لا کالج کے طالب علم محمد جنید ملک ، جنہوں نے دہلی کے CJP احتجاج کے دوران مظاہرین میں کھانا اور پانی تقسیم کیا تھا، نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو غیرقانونی طور پر حراست میں لیا، مسلسل ہراساں کیا اور صرف انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی سزا دی۔

Muhammad Junaid has knocked on the door of the Supreme Court. Photo: INN
محمد جنید نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیر اہتمام ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران مظاہرین کو کھانا اور پانی فراہم کرنے والے غازی آباد کے باشندے اور ایل ایل بی کے طالب علم محمد جنید ملک نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو پولیس کی جانب سے مسلسل ہراسانی، غیرقانونی حراست اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیلی گراف کے مطابق جنید نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ انہوں نے احتجاج میں کسی سیاسی کارکن کے طور پر نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے حصہ لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف احتجاج میں شریک طلبہ اور دیگر افراد کو کھانا اور پانی فراہم کر رہے تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں پولیس کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی مظاہرین: سپریم کورٹ کا تمام ریاستوں کو کارروائی پر روک لگانے کا حکم

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ احتجاج کے بعد پولیس اہلکار جنید کے گھر پہنچے، انہیں اور ان کے خاندان کے افراد کو اپنے ساتھ لے گئے اور کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا۔ جنید کا دعویٰ ہے کہ اس دوران انہیں کسی باضابطہ ایف آئی آر، گرفتاری میمو یا قانونی کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق انہیں بار بار پوچھا گیا کہ وہ احتجاج میں کیوں گئے اور انہوں نے مظاہرین کو کھانا کیوں فراہم کیا۔ جنید نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ’’میں نے صرف بھوکے طلبہ کو کھانا اور پانی فراہم کیا تھا۔ یہ ایک انسانی فریضہ تھا، کوئی جرم نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کون ہیں محمد عرفان جن سے ملنے راہل گاندھی اُن کی جھوپڑی میں گئے

درخواست کے مطابق پولیس کی کارروائی صرف جنید تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی بار بار تھانے بلایا گیا، سوالات کیے گئے اور دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ جنید کا مؤقف ہے کہ اس عمل نے ان کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کیا اور ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔ سپریم کورٹ سے دائر درخواست میں جنید نے استدعا کی ہے کہ عدالت پولیس کو ان کے خلاف مزید زبردستی کی کارروائی سے روکے، انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی کہا ہے کہ صرف امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بنیاد پر کسی شہری کو مجرم کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: کیرالا: آر ایس ایس لیڈر کے جنتر منتر کے متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم

یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ حال ہی میں CJP احتجاج سے متعلق متعدد درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے تمام ریاستوں کو مظاہرین کے خلاف مزید جابرانہ کارروائی سے باز رہنے، نابالغ زیرِ حراست افراد کو فوری رہا کرنے اور مظاہرین سے حاصل کیے گئے ڈجیٹل مواد کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دے چکی ہے۔ عدالت نے اس سماعت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ اگر کسی جانب سے طاقت کا ناجائز استعمال ہوا ہے تو اس کے لیے جوابدہی ہونی چاہیے۔ ادھر گزشتہ چند دنوں کے دوران بہار، دہلی اور دیگر ریاستوں میں احتجاج کے بعد ہونے والی گرفتاریوں، ایف آئی آرز، پیلٹ گن کے استعمال، اور پولیس کارروائیوں کے خلاف کئی درخواستیں مختلف عدالتوں میں دائر کی جا چکی ہیں۔ CJP بھی حکومت پر یہ الزام عائد کر چکی ہے کہ احتجاج ختم کرنے کے معاہدے کے باوجود مختلف ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں کی جانب سے مختلف مقدمات میں قانونی کارروائی کو قانون کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK