• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گروگرام کیس: ’دو ویڈیوز کافی ہیں‘، خاتون بائیکر کا کار ڈرائیور کو دوٹوک جواب

Updated: September 15, 2026, 6:00 PM IST | New Delhi

گروگرام میں خاتون بائیکر کو کار سے ٹکر مارنے کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا جہاں متاثرہ بائیکر نے ڈرائیور کے حادثہ اتفاقاً پیش آنے کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے کی ویڈیوز واضح ثبوت ہیں کہ کار ڈرائیور نے اس کا پیچھا کرنے کے بعد بائیک کو ٹکر ماری، جس پر پولیس نے قتل کی کوشش کی دفعہ بھی شامل کرلی ہے۔

Image captured from the video at the time of the accident. Photo: X
حادثے کے وقت کی تصویر جو ویڈیو سے لی گئی ہے۔ تصویر: ایکس

گروگرام کی گالف کورس روڈ پر خاتون بائیکر کو مبینہ طور پر کار سے ٹکر مارنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مزید سنگین ہوگیا ہے۔ متاثرہ بائیکر شیوانی چوہان عرف ’سیا‘ نے کار ڈرائیور کلیان بینسلا کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ حادثہ غیر ارادی طور پر پیش آیا تھا۔ سیا کا کہنا ہے کہ واقعے کی ویڈیوز سے واضح ہے کہ کار نے اس کا پیچھا کیا اور پھر اس کی بائیک کو ٹکر ماری۔ یہ واقعہ۱۳؍ ستمبر کو پیش آیا، جب سیا اپنے چند ساتھی بائیکرز کے ساتھ ’سنڈے رائیڈ‘ پر نکلی تھیں۔ وہ ’Aprilia RS 457‘ اسپورٹس بائیک چلا رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک کار کو بائیکرز کے گروپ کا پیچھا کرتے اور پھر اچانک لین تبدیل کرکے سیا کی بائیک سے ٹکراتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو سیا کے ہیلمٹ کیمرے سے جبکہ دوسری ان کے ساتھی بائیکر ابھیشیک شرما کے ہیلمٹ کیمرے سے ریکارڈ ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: اسلامی کلمات کہنے پر مسلم خاتون آئی پی ایس افسر کا تبادلہ

بائیکر کا الزام
سیا اور ان کے ساتھیوں کا الزام ہے کہ کار ڈرائیور نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا، لیکن سیا نے اپنی حفاظت کے پیش نظر گاڑی نہیں روکی۔ ان کے مطابق ڈرائیور مسلسل ان کا پیچھا کرتا رہا اور بعد میں تیزی سے لین تبدیل کرتے ہوئے بائیک کو ٹکر مار دی۔ ایک اور بائیکر نے بھی کار کو روکنے کی کوشش کی اور ٹریفک سگنل پر ڈرائیور سے رکنے کو کہا، تاہم کار وہاں سے بھی تیزی سے نکل گئی۔ 
ڈرائیور کا کیا کہنا ہے؟
دوسری جانب کلیان بینسلا نے ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ حادثہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک حادثہ تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بائیکرز اس کی کار کے آگے بار بار رفتار کم اور زیادہ کر رہے تھے اور اسے آگے نکلنے سے روکنے کیلئے ’پنچنگ‘ کر رہے تھے۔ ڈرائیونگ کی اصطلاح میں ’پنچنگ‘ سے مراد کسی دوسری گاڑی کے انتہائی قریب آکر جارحانہ انداز میں راستہ روکنا یا اسے خطرناک صورتحال میں ڈالنا ہے۔ بینسلا نے یہ بھی کہا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ بائیک چلانے والی خاتون ہے اور اس نے دعویٰ کیا کہ وہاں تقریباً۲۰؍ سے۲۲؍ بائیکرز موجود تھے۔ اس نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے لڑکی کیلئے دکھ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ڈی جے کے خلاف شہریوں کا خاموش مارچ

’دو ویڈیوز کافی نہیں ہیں ؟‘
بینسلا کے دعووں کا جواب دیتے ہوئے سیا نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کی اور کہا کہ اصل ویڈیو دیکھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ کس نے کس کو ’پنچ‘ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بائیکرز کے رفتار کم یا زیادہ کرنے سے ڈرائیور کو اعتراض تھا تو اسے پورے راستے ان کا پیچھا کرنے کا کیا جواز تھا؟سیا نے ڈرائیور کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ بائیک چلانے والی خاتون ہے۔ ان کے مطابق ان کے لمبے بال تھے اور وہ انہیں باندھ کر چلا رہی تھیں، اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ ڈرائیور کو ان کی جنس کا علم نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیور نے ان کے برابر آکر ہاتھ کے اشارے سے انہیں رکنے کو بھی کہا تھا۔ بینسلا کی جانب سے یہ سوال اٹھائے جانے پر کہ صرف دو ویڈیوز کیوں سامنے لائی گئی ہیں، سیا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہٹ اینڈ رن‘ کے معاملے میں کیا دو ویڈیوز کافی نہیں ہیں ؟ ان کے مطابق ایک ویڈیو میں کار کو سامنے والی لین سے تیزی سے تیسری لین کی طرف آتے اور بائیک سے ٹکراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو میں کار بائیک کو ایک سے دوسری لین تک گھسیٹتی اور پھر سیا کو سڑک پر گراتی دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’آئی فیٹ انڈیا‘میں میرابھائندرمیونسپل کارپوریشن کا صفائی کا سفرتوجہ کا مرکز رہا

’اگر افسوس تھا تو رکے کیوں نہیں؟‘
سیا نے ڈرائیور کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ اسے واقعے پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی اسے ان کی فکر تھی تو حادثے کے فوراً بعد رک کر ان کی خیریت کیوں نہیں دریافت کی؟ ان کے مطابق چند سیکنڈ کا فرق سنگین چوٹ، ہڈی ٹوٹنے یا حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتا تھا۔ 
پولیس نے قتل کی کوشش کی دفعہ شامل کردی
واقعے کا ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد گروگرام پولیس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے سیکٹر۵۶؍ تھانے میں تیز رفتار اور خطرناک ڈرائیونگ سمیت انسانی زندگی یا ذاتی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کے تفصیلی جائزے کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ ۱۰۹؍یعنی قتل کی کوشش بھی شامل کردی۔ اس دفعہ میں ۱۰؍ سال تک قید کی سزا کی گنجائش ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے کلیان بینسلا کو راجستھان کے دوسا سے گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق بینسلا پالول کا رہائشی، جم کا مالک اور سابق کبڈی کھلاڑی ہے۔ واقعے میں استعمال ہونے والی سفید ماروتی سوزوکی سیاز ایک فوجی اہلکار کی ملکیت بتائی گئی ہے جو اس وقت آسام میں تعینات ہے۔ پولیس کے مطابق بینسلا نے یہ کار واقعے سے دو روز قبل ادھار لی تھی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ متاثرہ خاتون کا باضابطہ بیان بھی تفتیش کا حصہ ہے اور معاملے میں مزید قانونی کارروائی شواہد کی بنیاد پر کی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK