سی جے پی کے بانی ا بھیجیت دپکے نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف آئی آر، نیٹ معاوضے اور امتحانی اصلاحات کے حوالے سے احتجاجی وعدوں کو پورا کرے، بصورت دیگر۲۴؍ اگست کے بعد ممکنہ نئی کارروائی کی تنبیہ کی۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 8:59 PM IST | New Delhi
سی جے پی کے بانی ا بھیجیت دپکے نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف آئی آر، نیٹ معاوضے اور امتحانی اصلاحات کے حوالے سے احتجاجی وعدوں کو پورا کرے، بصورت دیگر۲۴؍ اگست کے بعد ممکنہ نئی کارروائی کی تنبیہ کی۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اتوار کو مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ ان وعدوں کو پورا کرے جو مبینہ طور پر پریشر گروپ سے جنتر منتر پر احتجاج ختم کرنے کیلئے کیے گئے تھے۔ آن لائن تنظیم سے پریشر گروپ بننے والی اس پارٹی نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ملک کے نوجوانوں سے دھوکہ کیا اور ان کا اعتماد توڑا، جبکہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کے کلیدی مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ سی جے پی نے ایک بیان میں لکھا، ’’ہم حکومت کو پوری نسل کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جب وہ ایک پرامن تحریک ختم کرنے کے لیے وعدے کرے اور پھر سڑکیں خالی ہونے کے بعد انہی وعدوں سے مکرنے کی کوشش کرے۔ ہندوستان کے نوجوانوں سے کیا گیا عہد لفظی اورعملی دونوں اعتبار سے پورا کیا جانا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے نے اسکولوں میں مڈڈے میل کیلئے لائسنس کو لازمی قرار دیا
بعد ازاں سی جے پی نے الزام عائد کیا کہ عدالت کی جانب سے طلبہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر اور ان کی منسوخی کی تجویز کے بارے میں بارہا استفسار کے باوجود حکومت نے اب تک مطلوبہ فہرست فراہم نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا، ’’مرکزی حکومت نے اسے فراہم کرنے کا عہد نہیں کیا۔ اس کے فوری بعد پریس کانفرنس میں سی جے پی کے شریک کنوینر سوربھ داس اور قانونی امور کی سربراہ رتن سنگھ نے خبردار کیا کہ حکومت مشترکہ پریس کانفرنس میں سنجیدہ وعدوں کی بنیاد پر ہمارا احتجاج واپس لینے کے بعد ملک کی نوجوان نسل کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘گروپ نے کہا کہ وعدوں کو کمزور کرنے، تاخیر کرنے، نئی تعبیر دینے یا ان کی بے حرمتی کرنے کی کوئی کوشش ناقابلِ قبول اعتماد شکنی اور نوجوانوں کے ساتھ اعتماد شکنی ہوگی۔ گروپ نے کہا، ’’اس لیے ہم ملک بھر کے طلبہ، نوجوان شہریوں، حامیوں اور سی جے پی کے رضاکاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ۲۴؍ اگست کو آنے والے ممکنہ اقدام کے لیے تیار رہیں۔‘‘
علاوہ ازیںتنظیم نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے کسی وفد نے وعدوں کی تکمیل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں ان کے نمائندوں سے رابطہ نہیں کیا۔ ان میں نیٹ کے طلبہ جنہوں نے خودکشی کی، ان کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ بھی شامل تھا۔سی جے پی نے کہا، ’’احتجاج نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ حاصل کیا لیکن یقین رکھیں، ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک نوجوان نسل سے کیے گئے ہر ایک وعدے کو پورا نہیں کر لیتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: زعفرانی خیمہ کو حملہ مہنگا پڑا، اسکولی نظام کا کچا چٹھا منظر عام پر آگیا
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے۲۵؍ جولائی کو اپنا ایک ماہ سے زائد جاری احتجاج یہ کہتے ہوئے ختم کیاکہ حکومت نے اس کے تمام مطالبات قبول کر لیے ہیں۔مزید برآں سی جے پی کے مطابق، تین بڑے وعدے یہ تھے، نیٹ پیپر لیک تنازعہ کے سلسلے میں خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو زیادہ سے زیادہ ممکن معاوضہ،. مرکزی حکومت اور این ڈی اے کی ریاستوں کی طرف سے درج تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں، اور احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف مستقبل میں کوئی کارروائی نہ ہو، حکومت کی طرف سے سی جے پی کے پانچ نکاتی امتحانی اصلاحات کے چارٹر پر غور کیا جائے، اس کے بعد گروپ اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مزید بات چیت ہو۔ تاہم سی جے پی سے توقع ہے کہ وہ ۲۴؍اگست کے اجلاس میں اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرے گی، اگر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے تو ممکنہ طور پر احتجاج کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہے۔