ہندوستان فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی نے معائنے کے دوران فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور ضوابط پر عمل درآمد میں کمی سامنے آنے کے بعد دہلی اور دمن کی دو فوڈ بزنس یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 9:00 PM IST | New Delhi
ہندوستان فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی نے معائنے کے دوران فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور ضوابط پر عمل درآمد میں کمی سامنے آنے کے بعد دہلی اور دمن کی دو فوڈ بزنس یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
ہندوستان فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی (ایف ایس ایس اے آئی )(FSSAI) نے معائنے کے دوران فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور ضوابط پر عمل درآمد میں کمی سامنے آنے کے بعد دہلی اور دمن کی دو فوڈ بزنس یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کے تحت نئی دہلی میں واقع مارشے ریٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ کا فوڈ لائسنس فوری طور پر ۳۰؍ دن کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب دمن کے رنگن واڑہ میں واقع ایس ڈی پی انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف غیر معیاری گھی مصنوعات اور ملاوٹ کے خدشے کے باعث پابندی کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کنگنانے تاپسی کو ’پرورش‘ والے بیان پر آڑے ہاتھوں لیا، کہا: سستی کاپی سامنے آ گئی
ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق مارشے ریٹیل کے معائنے اور اس کے بعد کیے گئے فالو اَپ معائنے میں کئی سنگین خامیاں سامنے آئیں۔ ان میں: ادارے کے ڈیزائن اور آپریشنل کنٹرول میں خامیاں، صفائی اور حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات، فوڈ ہینڈلرز کی ذاتی صفائی کے حوالے سے خامیاں، فوڈ ورکرز کی ضروری تربیت کا فقدان، لازمی ریکارڈ برقرار رکھنے میں کوتاہی، فوڈ ہینڈلرز کے ضروری میڈیکل ریکارڈ دستیاب نہ ہونا، فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت سے متعلق لازمی دستاویزات کا مناسب طریقے سے برقرار نہ رکھا جانا شامل ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے بعد ایف ایس ایس اے آئی نے کمپنی کا لائسنس ۳۰؍ دن کے لیے معطل کردیا۔ کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب تک تمام نشاندہی کی گئی خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا اور متعلقہ حکام کی جانب سے تعمیل کی تصدیق نہیں ہوجاتی، اس وقت تک تمام فوڈ بزنس سرگرمیاں فوری طور پر بند رکھی جائیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے دمن کے رنگن واڑہ میں واقع ایس ڈی پی انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف بھی پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔یہ کارروائی کمپنی کی جانب سے تیار کیے جانے والے مختلف گھی مصنوعات کے معائنے اور ان کے نمونے حاصل کیے جانے کے بعد کی گئی۔ ’شردھا‘، ’سری سرس‘ اور ’گوکل‘ جیسے برانڈ ناموں سے فروخت ہونے والے گھی کے نمونے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ء اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔
یہ بھی پڑھئے:کولمبو ٹیسٹ :جیسوال اور فرنانڈو کے درمیان شدید تلخ کلامی
لیباریٹری ٹیسٹ میں گھی کے نمونوں میں بیٹا سٹواسٹیرول (Beta-Sitosterol) پایا گیا۔ یہ ایک پلانٹ اسٹیرول ہے اور عام طور پر خالص گھی میں اس کی موجودگی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ گھی میں موجود فیٹی ایسڈ کی ساخت بھی مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق یہ نتائج گھی میں بیرونی یا نباتاتی چربی (Vegetable Fat) کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جس سے فوڈ سیفٹی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے۔ فوڈ بزنس آپریٹر نے ابتدائی لیباریٹری رپورٹ کے خلاف قانون کے تحت اپیل کرنے کا حق استعمال کیا۔ اس کے بعد اپیل کیے گئے نمونوں کو دوبارہ جانچ کے لیے ریفرل فوڈ لیباریٹری بھیجا گیا۔ دوبارہ کی گئی جانچ میں بھی متعلقہ نمونوں میں مقررہ معیارات کی خلاف ورزی پائی گئی۔ اس سے کمپنی کے خلاف کارروائی کی بنیاد مزید مضبوط ہوگئی۔