کانگریس نے سابق جج کے انکشافات پر تشویش ظاہر کی اورکہا کہ اس سے ظاہر ہے کہ عدالتی کام کاج میں حکومت کس حد تک مداخلت کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 10:45 AM IST | Agency | New Delhi
کانگریس نے سابق جج کے انکشافات پر تشویش ظاہر کی اورکہا کہ اس سے ظاہر ہے کہ عدالتی کام کاج میں حکومت کس حد تک مداخلت کرتی ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کشن کول کے انکشافات کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اتوار کوکہا کہ آئین کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے والے ادارہ (عدلیہ) کو برسراقتدار طبقہ کے اثر و رسوخ اور دباؤ سے آزاد رہنا ضروری ہے۔
جے رام رمیش نے ہندی میں کئے گئے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کشن کول کی کتاب نے مودی حکومت کے دور میں عدلیہ کی آزادی پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سابق چیف جسٹس چندرچڈ عدالتی تقرریوں میں مرکز کے زیادہ ہی فرمانبردارتھے: سابق جج
ججوں کی تقرری میں حکومت کی مداخلت، کالجیم کی میٹنگ سے پہلے ہی حکومت کی منظوری لینے کی کوشش اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے جج کے نام پر ان کی ذات کے بارے میں حکومت کے بے تکے سوالات کا جسٹس کول نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ جن باتوں کو لوگ کھل کر کہنے سے کتراتے تھے، جسٹس کول نے ان تمام واقعات کو بڑے محتاط انداز میں قلم بند کیا ہے۔‘‘
جے رام رمیش نے اس پر چندر چڈ کی خاموشی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس نے ججوں کی تقرری سے پہلے حکومت کے ساتھ بات چیت سے انکار نہیں کیا۔ جب سابق چیف جسٹس جسٹس چندرچوڑ کہتے ہیں کہ حکومت کی چیف جسٹس کے ساتھ بات چیت ہوتی ہے اور تقرریوں میں اس کا کردار بھی ہوتا ہے تو عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے سوالات مزید سنگین ہوجاتے ہیں۔‘‘کانگریس لیڈر نے کہا کہ’’اگر ججوں کی تقرری کے معاملے میں حکومت کی منظوری کا دباؤ ہو اور حساس معاملات کی سماعت کرنے والی بنچ بھی تبدیل کردی جائے تو جمہوریت کے تحفظ کیلئے یہ سوال پوچھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ اگر یہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنا اور اس کی آزادی کو کمزور کرنا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟‘‘