• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی: سرکاری اداروں میں باہمی تال میل کا فقدان

Updated: October 26, 2026, 12:09 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli

۲؍ برسوں کے دوران تقریباً ۲۱ ؍نئی سڑکیں کھودے جانے کے باعث کروڑوں روپے کے عوامی فنڈ کا ضیاع۔

A road constructed of cement concrete was dug up for some work. Photo: INN
سیمنٹ کنکریٹ سے تعمیر کی گئی ایک سڑک کوکسی کام کےلئے کھود دیا گیا۔ تصویر: آئی این این

شہری منصوبہ بندی میں سرکاری اداروں کی نااہلی اور باہمی رابطے کے سنگین فقدان کا خمیازہ ایک بار پھر ٹیکس دہندگان کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ڈومبیولی ایم آئی ڈی سی کے رہائشی زون میں انتظامی لاپروائی کی انتہا اس وقت سامنے آئی جب حال ہی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سیمنٹ کنکریٹ کی پختہ سڑکوں پر ایک بار پھر کھدائی کی مشینیں چلا دی گئیں۔گزشتہ۲؍برسوں کے دوران تقریباً ۲۱ ؍ نئی سڑکوں کی مختلف کاموں کے نام پر بے دردی سے کھدائی کی گئی جس پر شہریوں اور سماجی کارکنوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے:آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی

عوامی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر نکاسی آب، سیوریج، بجلی کی ترسیل اور پانی کی پائپ لائنیں بچھانا اتنی ہی ناگزیر ضرورت تھیں تو کنکریٹ کی سڑکیں تعمیر کرنے سے قبل یہ تمام تر بنیادی کام مکمل کیوں نہیں کئے گئے؟ ایم آئی ڈی سی ملاپ نگر کے روڈ نمبر ۲ ؍پر واقع بنگلہ پلاٹ نمبر ۱۲۷؍ کے سامنے محض ایک نالے کی تعمیر کی خاطر بنی بنائی سڑک کو بیچ سے چیر کر رکھ دیا گیا ہے۔یہ سنگین غفلت واضح کرتی ہے کہ ترقیاتی کاموں کے نام پر ایم ایم آر ڈی اے، ایم آئی ڈی سی اور کے ڈی ایم سی جیسی بڑی سرکاری ایجنسیاں ایک دوسرے سے مکمل طور پر بے خبر کام کر رہی ہیں۔ان میں کسی قسم کا کوئی تال میل نہیں ہے۔  اس توڑ پھوڑ کے نتیجہ میں نہ صرف عوام کی خون پسینے کی کمائی مٹی میں ملائی جا رہی ہے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی عذاب بن چکی ہے۔ سڑک بند ہونے کی وجہ سے مسافروں، ایمبولنس اور اسکول کی بسوں کو طویل چکر کاٹ کر گزرنا پڑ رہا ہے اور یہ کوفت آئندہ پورے ایک ماہ تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ستم دیوالی کے تہوارکے موقع پر ڈھایا جا رہا ہے جب بازاروں اور راستوں پر پہلے ہی  بھیڑ بھاڑ عروج پر ہوتی ہے جس سے پورے علاقے میں روزانہ بدترین ٹریفک جام کا سامنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK